Business
پاکستان میں پیاز کی کاشت میں کمی: کسانوں کو درپیش مسائل
پاکستان میں پیاز کی کاشت کرنے والے کسانوں کی دلچسپی میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے جس کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ اور مناسب منافع کا نہ ملنا ہے۔ اس صورتحال کے باعث آنے والے دنوں میں پیاز کی قلت اور قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
پاکستان کے زرعی شعبے میں پیاز کی کاشت کرنے والے کسانوں کی دلچسپی میں تشویشناک حد تک کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کے اثرات ملک بھر کی منڈیوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیاز کی فصل سے کسانوں کا بیزار ہونا ملکی زرعی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ پیاز باورچی خانے کی سب سے بنیادی ضرورت ہے اور اس کی پیداوار میں کمی براہ راست عام آدمی کی جیب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ کھاد، بیج اور بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد اب پیاز کی کاشت ایک گھاٹے کا سودا بن چکی ہے۔
اس صورتحال کے پیچھے سب سے بڑی وجہ پیداواری لاگت اور منڈی میں ملنے والے ریٹ کے درمیان وسیع خلیج ہے۔ کاشتکاروں کا شکوہ ہے کہ جب فصل تیار ہو کر منڈی پہنچتی ہے تو انہیں اپنی لاگت کا نصف حصہ بھی بمشکل واپس ملتا ہے، جبکہ مڈل مین اور بڑے ڈیلرز منافع کا زیادہ تر حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں۔ اس کے برعکس، غیر متوقع موسمیاتی تبدیلیوں اور بروقت پانی کی دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات فصل بھی متاثر ہوتی ہے، جس سے کسانوں کو دوہرے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
زراعت سے وابستہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کسانوں نے پیاز کی کاشت سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کر لی تو پاکستان کو پیاز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑے گا، جو پہلے ہی غیر ملکی زرمبادلہ کے بحران سے دوچار ملک کے لیے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ کاشتکاروں کے لیے سبسڈی اور مارکیٹنگ کے بہتر انتظامات کو یقینی بنائے تاکہ انہیں اس اہم فصل کی کاشت جاری رکھنے پر آمادہ کیا جا سکے۔
حالیہ صورتحال نے ملک میں سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر کسانوں کو ان کی محنت کا صلہ نہیں ملے گا تو وہ دیگر فصلوں کی طرف منتقل ہو جائیں گے، جس کے نتیجے میں پیاز کی سپلائی چین مکمل طور پر متاثر ہوگی۔ آنے والے سیزن میں اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو پیاز کی قلت کے باعث مارکیٹ میں قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا سکتی ہیں، جس کا بوجھ براہ راست صارفین کو اٹھانا پڑے گا۔