LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں ایکویٹی سرمایہ کاری میں کمی کی وجوہات اور چیلنجز

News Image
پاکستان میں ایکویٹی مارکیٹ کے حوالے سے پایا جانے والا خوف طویل مدتی اقتصادی استحکام میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار حصص کے کاروبار میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایکویٹی یا حصص کے کاروبار کو ہمیشہ ایک پیچیدہ اور بعض اوقات غیر محفوظ ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ عام سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقوں میں ایکویٹی سے متعلق پایا جانے والا خوف محض اتفاق نہیں بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط معاشی عدم استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل نہ ہونا شامل ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب کسی ملک میں مہنگائی کی شرح بلند ہو اور سود کی شرح میں مسلسل اتار چڑھاؤ آئے تو عام آدمی اپنی بچتوں کو اسٹاک مارکیٹ کے بجائے بینک ڈپازٹس یا پراپرٹی جیسے روایتی شعبوں میں محفوظ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس خوف کی دوسری بڑی وجہ پاکستان میں کارپوریٹ گورننس کے معیارات اور کمپنیوں کی شفافیت کا فقدان ہے۔ بہت سی نجی کمپنیاں اپنے مالیاتی گوشواروں کو عام کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتی ہیں، جس کی وجہ سے ایک عام سرمایہ کار کو یہ سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے کہ وہ کس حد تک سرمایہ کاری کرے اور کہاں خطرہ ہے۔ جب تک لسٹڈ کمپنیوں میں اعتماد کا فقدان رہے گا، اس وقت تک ایکویٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا وہ حجم دیکھنے کو نہیں ملے گا جو کسی بھی ترقی پذیر معیشت کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، حکومتی سطح پر ٹیکس کے پیچیدہ نظام اور ایکویٹی پر لگنے والے مختلف ٹیکسز نے بھی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ جب سرمایہ کار کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی محنت کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ٹیکسوں کی نذر ہو جائے گا اور ریٹرن کا تناسب بہت کم ہو گا، تو وہ حصص کے بازار سے دور رہنا ہی بہتر سمجھتا ہے۔ پاکستان میں ایکویٹی کلچر کو فروغ دینے کے لیے نہ صرف معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے ٹھوس قانون سازی بھی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ آخر میں، پاکستان کو ایکویٹی کے خوف سے نکلنے کے لیے ایک مستحکم طویل مدتی اقتصادی روڈ میپ کی ضرورت ہے۔ اگر اسٹاک مارکیٹ کو صرف قلیل مدتی منافع کمانے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے اسے طویل مدتی ملکی ترقی کا انجن بنایا جائے تو صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔ عوام میں مالیاتی خواندگی کے پروگرام شروع کرنے سے بھی اس خوف کو ختم کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کو ایکویٹی کے ذریعے دولت پیدا کرنے کے فوائد سے روشناس کرایا جا سکتا ہے۔