Business
پاکستان میں ایچ بی ایف سی ایل کی نجکاری کیلئے نئے اقدامات کا آغاز
حکومت پاکستان نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ (HBFCL) کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کیلئے کے پی ایم جی (KPMG) کی قیادت میں ایک کنسورشیم کو مالیاتی مشیر مقرر کر لیا ہے۔ یہ اقدام سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے حکومتی عزم کا حصہ ہے جس کا مقصد ملکی معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔
حکومت پاکستان نے ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ (HBFCL) کی نجکاری کے عمل کو ایک بار پھر آگے بڑھاتے ہوئے اس کیلئے مالیاتی مشیر کا تقرر کر لیا ہے۔ نجکاری کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، کے پی ایم جی (KPMG) کی قیادت میں ایک کنسورشیم کو ایچ بی ایف سی ایل کی نجکاری کیلئے مالیاتی مشیر کی حیثیت سے خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ یہ تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ حکومت سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پرعزم ہے تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
اس معاہدے پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں نجکاری کمیشن کے اعلیٰ حکام اور کنسورشیئم کے نمائندے شریک تھے۔ یہ اقدام ایچ بی ایف سی ایل کی نجکاری کیلئے حکومت کی دوسری بڑی کوشش تصور کی جا رہی ہے۔ ماضی میں بھی اس ادارے کی نجکاری کیلئے کوششیں کی گئی تھیں، تاہم وہ خاطر خواہ نتائج دینے میں ناکام رہی تھیں، جس کے بعد اب ایک جامع حکمت عملی کے تحت دوبارہ عمل کا آغاز کیا گیا ہے۔ مالیاتی مشیر اب ادارے کے مالی و انتظامی امور کا جائزہ لیں گے اور شفاف طریقے سے نجکاری کے عمل کو مکمل کرنے کیلئے سفارشات تیار کریں گے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایچ بی ایف سی ایل کی نجکاری کا فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد ایسے اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنا ہے جو طویل عرصے سے نقصان میں چل رہے ہیں یا اپنی کارکردگی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ اس نجکاری سے نہ صرف حکومت کو سرمایہ حاصل ہوگا بلکہ نجی شعبے کی شمولیت سے ادارے کی کارکردگی میں بہتری اور مارکیٹ میں مسابقت بڑھنے کی بھی توقع ہے۔
آنے والے ہفتوں میں، مالیاتی مشیر ایچ بی ایف سی ایل کے اثاثوں کی جانچ پڑتال اور مارکیٹ کی صورتحال کا تفصیلی تجزیہ مکمل کریں گے۔ نجکاری کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس سارے عمل میں شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے گی تاکہ کسی بھی قانونی یا مالی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔ حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ نجکاری کے اس عمل سے ملازمین کے مفادات کا بھی تحفظ کیا جائے گا اور اسے ایک شفاف عمل کے ذریعے مکمل کیا جائے گا تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔