Defense
جنرل عامر رضا کی سی ڈی ایف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات - نیکسریا نیوز اردو
نئے تعینات ہونے والے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ جنرل عامر رضا نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر عاصم منیر نے جنرل عامر رضا کو کمان سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نو تعینات کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (CNSC) جنرل عامر رضا نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل عامر رضا کو نئے عہدے اور کمان سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جی ایچ کیو آمد پر جنرل عامر رضا کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور ملک و قوم کے دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز ایک باضابطہ اعلان کے تحت جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ (سی این ایس سی) کے عہدے پر تعینات کیا تھا۔ وزیر اعظم آفس کے مطابق وزیراعظم نے نوٹیفکیشن کے اجراء پر جنرل عامر رضا کو مبارکباد دی تھی اور اس اہم ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کے لیے ان کی کامیابی کی دعا کی تھی۔ اس سے قبل جنرل عامر رضا کو ان کی شاندار عسکری خدمات کے اعتراف میں ہلالِ امتیاز (ملٹری) اور ستارہِ بسالت سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ سی این ایس سی کا یہ اہم عہدہ گزشتہ سال منظور کی جانے والی ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت تخلیق کیا گیا تھا، جس نے ملک کے عسکری کمان کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں کیں۔ اس ترمیم کے نتیجے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹارز کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے اسٹریٹجک اثاثوں کی مینجمنٹ کا نیا کردار سی این ایس سی کو تفویض کیا گیا۔ قانون کے مطابق سی این ایس سی کی تقرری، دوبارہ تقرری یا مدت میں توسیع صرف چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش سے مشروط ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ سال اس آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد ملک کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ملاقات ملک کے عسکری ڈھانچے اور اسٹریٹجک امور کے حوالے سے انتہائی اہمیت کی حامل ہے جو نئے کمانڈ اسٹریٹجک فریم ورک کے تحت باضابطہ ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرتی ہے۔