LIVE
Loading Breaking News...

ٹیٹو اور ملازمت کا تعلق: کیا ٹیلنٹ پر ٹیٹو بھاری ہیں؟

News Image
برطانیہ کی ایک چوتھائی آبادی بشمول وزیراعظم ٹیٹو بنوانے کے شوقین ہیں مگر کام کی جگہ پر اب بھی انہیں شکوک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جدید دور میں بھی ٹیٹو کے حوالے سے سماجی اور پیشہ ورانہ رویوں میں واضح تقسیم موجود ہے۔
موجودہ دور میں جسم پر ٹیٹو بنوانے کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برطانیہ کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی کم از کم ایک ٹیٹو کی حامل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رجحان میں عام افراد کے ساتھ ساتھ اب اعلیٰ حکومتی شخصیات بھی شامل ہیں، جیسا کہ برطانیہ کے نئے وزیراعظم کے بارے میں بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ ٹیٹو کے شوقین ہیں۔ تاہم، اتنی مقبولیت کے باوجود کارپوریٹ دنیا اور مختلف دفاتر میں ٹیٹو کے حوالے سے آراء اب بھی منقسم ہیں۔ بہت سے آجروں کے لیے ٹیٹو کا ہونا اب بھی کسی فرد کی پیشہ ورانہ اہلیت کے برخلاف ایک منفی پہلو سمجھا جاتا ہے۔ ماہرینِ سماجیات کا کہنا ہے کہ ماضی کی نسبت اب ٹیٹو کو دیکھنے کے نظریے میں کافی تبدیلی آئی ہے، مگر ابھی بھی کئی شعبوں میں خاص طور پر سرکاری ملازمتوں یا کسٹمر سروس کے اہم عہدوں پر ٹیٹو کو غیر سنجیدہ سمجھا جاتا ہے۔ اکثر کمپنیاں اپنی ملازمت کی پالیسیوں میں یہ واضح کرتی ہیں کہ ظاہری شخصیت کیسی ہونی چاہیے، جس میں نظر آنے والے ٹیٹوز کو چھپانے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ یہ رویہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے جو تخلیقی شعبوں کے بجائے قدامت پسند کاروباری ماحول میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب نوجوان نسل کا ماننا ہے کہ ٹیٹو ان کی ذاتی شناخت اور اظہارِ رائے کا ایک طریقہ ہے، جس کا ان کی کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ ملازمت کے متلاشی افراد اکثر اس کشمکش کا شکار رہتے ہیں کہ آیا وہ اپنے شوق کو برقرار رکھیں یا کیریئر کی کامیابی کے لیے اپنی شخصیت میں تبدیلی لائیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، دفاتر میں بھی ٹیٹو کے حوالے سے رواداری بڑھ رہی ہے، لیکن ابھی بھی ایک بڑا طبقہ موجود ہے جو اسے پیشہ ورانہ نظم و ضبط کے خلاف گردانتا ہے۔ حتمی طور پر، اگر آپ ملازمت کے خواہشمند ہیں تو یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ جس ادارے یا شعبے میں درخواست دے رہے ہیں، وہاں کا کلچر کیا ہے۔ اگرچہ قوانین میں تبدیلی آ رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ کمپنیاں ٹیٹو کو قبول کر رہی ہیں، مگر ابھی بھی ذاتی تاثر قائم کرنے میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ ٹیٹو کا ہونا یقینی طور پر آپ کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کرتا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ کچھ قدامت پسند اداروں میں اب بھی آپ کو اپنی پیشہ ورانہ قابلیت ثابت کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑ سکتی ہے۔