Sports
فوزی لقجع: مراکش کی سیاست کا نیا ابھرتا ہوا ستارہ
مراکش کے فٹبال فیڈریشن کے صدر فوزی لقجع کے ایک سیاسی جماعت میں شمولیت کے فیصلے نے ملک میں نئی سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ان کے مستقبل میں وزیراعظم بننے کے عزائم کا عکاس ہو سکتا ہے۔
مراکش کے فٹبال منظرنامے پر چھائے رہنے والے فوزی لقجع، جو اس وقت مراکش کی رائل فٹبال فیڈریشن کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اب ملکی سیاست کے مرکز میں آ گئے ہیں۔ ان کے ایک بااثر سیاسی جماعت میں شامل ہونے کے اچانک فیصلے نے مراکش کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور ان کی مستقبل کی سیاسی خواہشات کے بارے میں قیاس آرائیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بہت سے سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو ایک بڑے سیاسی عروج کے ابتدائی اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ فوزی لقجع کو مراکش میں کھیلوں کے انتظام اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے حوالے سے انتہائی قابل اور باصلاحیت شخصیت سمجھا جاتا ہے۔
فوزی لقجع کی جانب سے سیاسی جماعت کا انتخاب ان کی انتظامی صلاحیتوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے فٹبال فیڈریشن کے سربراہ کے طور پر جس طرح سے مراکش میں کھیل کے معیار کو بلند کیا اور بین الاقوامی سطح پر مراکش کا نام روشن کیا، اس کے بعد عوام اور سیاسی حلقوں میں ان کی ساکھ کافی مضبوط ہوئی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگر وہ اپنی انتظامی مہارت کو حکومتی سطح پر لاتے ہیں تو وہ ملک کے اہم فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کی شمولیت کے بعد سے ہی سوشل میڈیا اور سیاسی تجزیہ کاروں میں یہ بحث گرم ہے کہ کیا وہ اگلے وزیراعظم کے طور پر خود کو پیش کر رہے ہیں۔
تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ فوزی لقجع اپنی سیاسی حکمت عملی کو کس طرح آگے بڑھاتے ہیں۔ مراکش کا موجودہ سیاسی نظام کافی پیچیدہ ہے، اور کسی بھی سیاسی شخصیت کو اعلیٰ ترین عہدے تک پہنچنے کے لیے نہ صرف عوامی حمایت بلکہ مقتدر حلقوں کا اعتماد بھی درکار ہوتا ہے۔ فوزی لقجع نے تاحال براہ راست وزیراعظم بننے کے عزائم کا کھل کر اظہار نہیں کیا ہے، لیکن ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ملک کی خدمت کے لیے کسی بھی بڑی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا یہ اقدام آنے والے وقتوں میں مراکش کی سیاست کو ایک نیا رخ دے سکتا ہے، خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے جو انہیں ایک متحرک لیڈر کے طور پر دیکھتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ فوزی لقجع کا سیاسی سفر اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ چاہے وہ وزیراعظم بنیں یا نہ بنیں، یہ بات واضح ہے کہ مراکش کی سیاست میں ان کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ ان کی انتظامی قابلیت اور کھیلوں کے میدان میں کامیابیاں انہیں ایک ایسے امیدوار کے طور پر پیش کرتی ہیں جن پر ملک کا سیاسی مستقبل منحصر ہو سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں ان کی سیاسی سرگرمیوں پر نہ صرف عوام بلکہ عالمی مبصرین کی نظریں بھی جمی رہیں گی، کیونکہ مراکش میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔