LIVE
Loading Breaking News...

یمن کی الموخا بندرگاہ پر حوثیوں کے پے در پے حملے

News Image
یمنی حوثی باغیوں نے الموخا کی تجارتی بندرگاہ کو مسلسل دوسرے روز میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ حملوں کا یہ تازہ سلسلہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کیے جانے والے پچھلے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
یمن میں جاری کشیدگی کے دوران حوثی باغیوں نے الموخا (Mocha) کی اہم تجارتی بندرگاہ کو ایک بار پھر اپنے میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ تازہ ترین حملہ اس وقت ہوا ہے جب گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے اندر بندرگاہ پر اسی طرح کے حملوں کا ایک اور سلسلہ دیکھا گیا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان حملوں نے بندرگاہ کے تجارتی امور اور سیکورٹی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ الموخا کی بندرگاہ یمن کی اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز سمجھی جاتی ہے اور اس پر ہونے والے مسلسل حملے ملک کے پہلے سے ہی تباہ حال بنیادی ڈھانچے کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ڈرون اور میزائلوں کے گرنے سے بندرگاہ کے قریبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد امدادی ٹیموں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ ابھی تک ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کی مکمل تفصیلات تو سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی جانب سے اس بندرگاہ کو مسلسل نشانہ بنانا علاقائی تنازعہ کے پھیلاؤ کا شاخسانہ ہے۔ اس سے قبل بھی حوثیوں نے بحیرہ احمر اور یمنی ساحلوں کے قریب تجارتی جہازوں اور تنصیبات کو حملوں کا ہدف بنایا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی شپنگ اور سپلائی چین پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ سیکیورٹی فورسز ان حملوں کو روکنے کے لیے دفاعی اقدامات کو مزید سخت کرنے پر غور کر رہی ہیں۔ حالیہ حملوں کے بعد علاقے میں موجود عام شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے، اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے بھی یمن میں جاری ان حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حوثی باغی ان حملوں کے ذریعے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور آیا سیکیورٹی فورسز ان جارحانہ کارروائیوں کو روکنے میں کامیاب ہو پائیں گی یا نہیں۔