LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان سیلاب متاثرین ہاؤسنگ منصوبہ: فنڈز کی منتقلی اور حکومتی پالیسی

News Image
حکومت نے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے شروع کیے گئے 115 ارب روپے کے عالمی بینک کے فنڈڈ منصوبے میں ردوبدل کر کے ہاؤسنگ یونٹس کی تعداد محدود کر دی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد تصدیق شدہ خاندان اپنی رہائش گاہوں سے محروم ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے خاموشی کے ساتھ 115 ارب روپے کے عالمی بینک کے تعاون سے جاری 'انٹیگریٹڈ فلڈ ریزیلینس اینڈ ایڈاپٹیشن پروجیکٹ' (IFRAP) کی ری اسٹرکچرنگ کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں بلوچستان کے ایک لاکھ 34 ہزار سے زائد سیلاب متاثرہ خاندان ان پائیدار گھروں سے محروم ہو گئے ہیں جن کا وعدہ وزیراعظم شہباز شریف نے کیا تھا۔ سرکاری دستاویزات اور ذرائع کے مطابق، اس منصوبے میں مبینہ طور پر ریکارڈ میں ہیر پھیر، جعلی دعووں اور ایک ہی مکان کے لیے متعدد بار ادائیگیوں کی شکایات سامنے آئی تھیں، جس کے بعد حکام نے اس کے ہاؤسنگ کمپوننٹ کو 69 ہزار گھروں تک محدود کر دیا ہے۔ منصوبے کی اسٹیئرنگ کمیٹی، جس کی سربراہی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کر رہے ہیں، نے ہاؤسنگ فنڈز کو سڑکوں اور آبپاشی کے منصوبوں کی طرف منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے باعث عالمی بینک نے بھی 180 ملین ڈالر کی اضافی فنڈنگ دینے سے انکار کر دیا ہے، جس سے تعمیر نو کا عمل بری طرح متاثر ہوا۔ پلاننگ کمیشن کے اجلاس کے منٹس سے انکشاف ہوا ہے کہ وزیراعظم کو فراہم کردہ اعداد و شمار میں تضاد پایا گیا تھا، جہاں 8,694 مکانات کی تکمیل کے بجائے 15,000 مکانات مکمل ہونے کی غلط رپورٹ دی گئی تھی۔ حکومتی حلقوں میں اس معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایک جانب یہ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ ہاؤسنگ منصوبے کو کمزور کر کے فنڈز ٹھیکیداروں کے مفاد میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی طرف منتقل کیے گئے، جبکہ دوسری جانب پلاننگ کمیشن کا مؤقف ہے کہ منصوبے کی رفتار سست تھی اور زمین کے مالکانہ حقوق نہ ہونے اور شفافیت کے فقدان کے باعث یہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ حکام نے اب شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سیٹلائٹ امیجری کے استعمال اور اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دیا ہے، تاہم بلوچستان میں ریکارڈ تک رسائی نہ ملنے کے باعث تحقیقات میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ میں اسی نوعیت کا ایک اور منصوبہ 'سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ ایفیکٹیز' کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جس کے تحت لاکھوں گھروں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ پلاننگ کمیشن کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے منصوبوں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بلوچستان کا منصوبہ وفاقی بجٹ اور عالمی بینک کے قرض سے منسلک ہے، جبکہ سندھ کا منصوبہ ایک الگ قانونی حیثیت رکھنے والے نان پرافٹ ادارے کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ بہر حال، اس پوری صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان ان غریب خاندانوں کا ہوا ہے جو گزشتہ چار سالوں سے اپنے گھروں کی تعمیر کے منتظر تھے۔