Pakistan
تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح مکمل، ہائی الرٹ جاری
پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا آبی ذخیرہ تربیلا ڈیم موسمیاتی بارشوں اور برف پگھلنے کے نتیجے میں اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش 1550 فٹ تک پہنچ چکا ہے۔ محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
لاہور: ملک کے اہم آبی ذخائر میں سے ایک، تربیلا ڈیم، حالیہ بارشوں اور برف پگھلنے کے عمل کے باعث اپنی زیادہ سے زیادہ ذخیرہ کرنے کی سطح 1550 فٹ تک پہنچ چکا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، اتوار کو شام چھ بجے ڈیم میں پانی کی سطح 1549.48 فٹ ریکارڈ کی گئی، جو کہ اس کی مکمل گنجائش کے انتہائی قریب ہے۔ ڈیم کا ڈیڈ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ موجودہ لائیو سٹوریج 5.523 ملین ایکڑ فٹ (MAF) تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ برسوں کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو اس سال تربیلا ڈیم نے تیزی سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی طرح منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح تیزی سے بڑھ رہی ہے جو کہ 1206.45 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور اپنی مکمل گنجائش سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔
واپڈا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 205,700 کیوسک اور اخراج 175,900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ چشمہ جھیل بھی اپنی مکمل گنجائش 649 فٹ کے تقریباً قریب پہنچ چکی ہے، جہاں پانی کی موجودہ سطح 648.50 فٹ ہے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ، کابل، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے اہم مقامات پر اگلے 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی آمد میں کسی بڑے اضافے کا امکان نہیں ہے، تاہم دریائے سندھ کے مختلف بیراجوں پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے بالائی علاقوں میں بارشوں کا ایک نیا سلسلہ 10 اگست سے شروع ہو رہا ہے، جس سے اسلام آباد، کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے بالائی علاقوں میں ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس موسم کے پیش نظر راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، اوکاڑہ اور لاہور میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور شمالی بلوچستان کے پہاڑی ندی نالوں میں بھی پانی کا بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ حکومتی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور نشیبی علاقوں میں مقیم شہریوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔