Pakistan
آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن میں تقرریاں، سیاسی حلقوں میں بحث
آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ حکومت نے اقتدار سے رخصت ہونے سے چند دن قبل پبلک سروس کمیشن کے سات نئے ممبران کی تقرری کر دی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت ن لیگ نے اس اقدام کو اخلاقی اور آئینی طور پر مشکوک قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں پبلک سروس کمیشن کے سات نئے ممبران کی تقرری کر دی ہے، جس پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرریاں آزاد کشمیر عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 48(2) اور پبلک سروس کمیشن ایکٹ 1986 کے تحت کی گئی ہیں۔ مقرر کیے جانے والے افراد میں سابق سیکریٹریز منیر حسین چوہدری، ڈاکٹر چوہدری لیاقت حسین اور محمد زاہد عباسی شامل ہیں، جبکہ تعلیمی کوٹے سے ڈاکٹر عبدالقدوس خان اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالحمید، خواتین کوٹے سے مدحت شہزاد اور پیشہ ورانہ کوٹے سے ڈاکٹر محمد سلیم خان کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ تقرریاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب موجودہ حکومت کی آئینی مدت ختم ہو چکی ہے اور وہ ایک عبوری انتظام کے تحت کام کر رہی ہے۔ اس اقدام پر مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما شاہد محمود وانی نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مقرر ہونے والے افراد کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا جا رہا، لیکن اس نازک موڑ پر تقرریوں کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسی حکومت جس کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں رہا اور جو صرف انتخابات کے انعقاد تک نگراں حیثیت میں ہے، اسے طویل مدتی نتائج رکھنے والے فیصلے اگلی منتخب حکومت پر چھوڑ دینے چاہئیں تھے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تقرری اخلاقیات کے منافی ہے اور اسے شفافیت کے اصولوں کے خلاف تصور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر پبلک سروس کمیشن ماضی میں بھی طویل عرصے تک فعال نہ ہونے اور تقرریوں میں تاخیر کے باعث تنقید کی زد میں رہا ہے۔ مئی 2023 میں جب سابق چیئرمین ایئر مارشل (ر) مسعود اختر اور دیگر ممبران کی مدت ختم ہوئی تھی، تو یہ ادارہ تقریباً آٹھ ماہ تک مکمل نہ ہو سکا تھا، جس سے بھرتیوں کا عمل تعطل کا شکار رہا۔ موجودہ حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے اور حکومت سازی کے عمل میں مصروف ہے۔ عوام اور اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ ایسے اہم آئینی اداروں میں تقرریاں غیر جانبدارانہ اور متفقہ ہونی چاہئیں تاکہ اداروں پر عوامی اعتماد بحال رہ سکے۔