Business
عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام اور چین کا کردار
فروری کے اواخر سے جاری کشیدگی کے دوران تیل کی سپلائی میں نمایاں کمی کے باوجود عالمی منڈی میں قیمتیں توقع کے برعکس مستحکم رہیں۔ اس استحکام کی بڑی وجہ چین میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں اضافہ اور عالمی سطح پر ایندھن کی طلب میں کمی ہے۔
فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک عالمی منڈی میں 2.6 ارب بیرل سے زائد تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد ماہرین کو خدشہ تھا کہ تیل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائیں گی۔ تاہم، حیران کن طور پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کنٹرول سے باہر نہیں ہوئیں اور زیادہ تر وقت دو ہندسوں میں ہی رہی ہیں۔ سعودی آرامکو کے سربراہ امین ناصر نے خبردار کیا تھا کہ ہرمز آبنائے کی بندش کے باعث عالمی ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں، لیکن قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل کی پیشگوئیوں کے برعکس مستحکم رہیں۔ اس استحکام کے پیچھے سب سے بڑا عنصر چین کی حکمت عملی اور عالمی منڈی میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کا بڑھتا ہوا اثر ہے۔
چین، جو دنیا میں خام تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، نے بحران کے آغاز سے ہی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی تھی۔ چین نے نہ صرف اپنے اسٹریٹجک ذخائر کا دانشمندی سے استعمال کیا بلکہ اپنی خام تیل کی درآمدات میں بھی نمایاں کمی کر دی۔ اعداد و شمار کے مطابق، چین کی جانب سے تیل کی خریداری میں کمی نے منڈی کے اتار چڑھاؤ کو محدود کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جیفریز اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کی رپورٹس کے مطابق، چین میں الیکٹرک گاڑیوں کے انقلاب نے پیٹرولیم مصنوعات کی مانگ کو نمایاں طور پر کم کیا ہے۔ صرف 2026 کے پہلے نصف میں، چین میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے روزانہ 14 لاکھ بیرل تیل کی طلب میں کمی واقع ہوئی، جس نے عالمی سطح پر 'ڈیمانڈ ڈسٹرکشن' میں اہم کردار ادا کیا۔
الیکٹرک گاڑیوں کی طرف یہ منتقلی صرف چین تک محدود نہیں رہی بلکہ جنگی صورتحال کے باعث دنیا بھر میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دیگر ممالک کو بھی الیکٹرک اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں کی طرف راغب کیا ہے۔ آئی ای اے کی رپورٹ کے مطابق، جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ سمیت 50 سے زائد ممالک نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں کی ہیں تاکہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ صرف 2026 کی دوسری سہ ماہی میں دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زائد الیکٹرک اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیاں فروخت ہوئیں۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انرجی شاک نے دنیا کو روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ہرمز آبنائے کی بندش جیسے سنگین بحران نے عالمی توانائی کے منظر نامے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، لیکن ٹیکنالوجی اور ایندھن کے متبادل ذرائع نے منڈی کو ایک بڑا سہارا فراہم کیا ہے۔ اگرچہ پاکستان جیسے ممالک اس دوڑ میں ابھی پیچھے ہیں، لیکن عالمی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کا عروج تیل کی قیمتوں کو کنٹرول رکھنے میں ایک دیوار ثابت ہوا ہے۔ آنے والے وقتوں میں، جیسے جیسے الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا، روایتی تیل کی منڈی پر ہونے والے سیاسی اور جنگی اثرات میں مزید کمی متوقع ہے۔