LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل: حکومتی منصوبہ اور درپیش سیاسی چیلنجز

News Image
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک پیچیدہ سیاسی اور آئینی چیلنج بن چکا ہے جس پر حکومت کو اب تک تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے حاصل نہیں ہو سکا۔ حزب اختلاف اور ماہرین قانون نے متنبہ کیا ہے کہ آئینی طریقہ کار سے ہٹ کر کوئی بھی قدم ملک میں شدید سیاسی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔
پاکستان میں انتظامی سہولت کے لیے نئے صوبوں کا قیام موجودہ حکومت کے لیے ایک دیوہیکل ٹاسک بن چکا ہے، جس کے لیے بظاہر حکومتی سیٹ اپ مکمل طور پر تیار دکھائی نہیں دیتا۔ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کے ارادوں کی تصدیق تو کی ہے، تاہم اس بات پر زور دیا کہ اس عمل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا اولین ترجیح ہوگی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کا ارادہ سات سے لے کر 27 تک نئے صوبے بنانے کا ہے، لیکن ان کی جغرافیائی حدود اور قیام کے طریقہ کار پر سیاسی جماعتوں کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت نے آئینی عمل کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی تو اسے شدید سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا متحمل موجودہ سیٹ اپ نہیں ہوسکتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سیکرٹری جنرل نیر بخاری نے واضح کیا ہے کہ حکومت کو اس معاملے کو پہلے وفاقی کابینہ میں زیر بحث لانا چاہیے اور پھر تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت آئین کے آرٹیکل 239(4) کو ختم کر کے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیر صوبے بنانے کی کوشش کرتی ہے تو اسے آرٹیکل 1 میں بھی ترمیم کرنا ہوگی، جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ انہوں نے اس قیاس آرائی کو بھی مسترد کیا کہ حکومت ریفرنڈم کے ذریعے یہ کام کر سکتی ہے، کیونکہ ریفرنڈم بھی پارلیمنٹ کی منظوری کا محتاج ہوتا ہے۔ ادھر، پی ٹی آئی نے اس منصوبے کی حمایت کا عندیہ دیا ہے، لیکن مطالبہ کیا ہے کہ پہلے جنوبی پنجاب صوبے کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ ادھر، پلڈاٹ کے صدر احمد بلال محبوب نے تجویز دی ہے کہ حکومت کو جذباتی فیصلے کرنے کے بجائے ایک ہائی پاورڈ 'سٹیٹ ری آرگنائزیشن کمیشن' تشکیل دینا چاہیے، جیسا کہ 1953 میں بھارت نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے کمیشن میں سپریم کورٹ کے جج شامل ہونے چاہئیں جو معاشی، سیاسی اور سماجی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لے کر سفارشات مرتب کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نئے صوبوں کے قیام میں مشکلات محسوس کرے تو اسے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر توجہ دینی چاہیے اور انہیں براہِ راست نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) سے فنڈز کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے تاکہ صوبائی طاقتوں کا ارتکاز ختم ہو سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، جب تک حکومت شفاف اور آئینی راستے کا تعین نہیں کرتی، نئے صوبوں کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔