LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ

News Image
مالی سال 2026 کے اختتام تک پاکستان میں ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کا حجم پہلی بار ایک کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ پیشرفت سرکاری اہداف سے دو سال قبل ہی حاصل کر لی گئی ہے جس سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے اشارے ملتے ہیں۔
پاکستان کے معاشی منظرنامے میں حالیہ مالی سال کے اعداد و شمار ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ مالی سال 2026 کے اختتام تک بینکنگ انڈسٹری میں مجموعی ڈپازٹس 39.8 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہیں۔ اس دوران سب سے نمایاں پہلو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کے لیے جاری کردہ قرضوں کا حجم ہے، جو پہلی بار ایک کھرب (ایک ٹریلین) روپے کی حد عبور کر گیا ہے۔ یہ اضافہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 37 فیصد رہا ہے، جو معاشی حلقوں میں ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگرچہ نجی شعبے کے مجموعی قرضوں میں بھی 14.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، لیکن SMEs کے لیے قرضوں کی شرح نمو نے غیر ایس ایم ای شعبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، ایس ایم ای قرضوں کی پانچ سالہ کمپاؤنڈ اینول گروتھ ریٹ (CAGR) 17 فیصد رہی ہے، جو اس شعبے میں جاری بحالی کی تصدیق کرتی ہے۔ اس پیشرفت کا ایک بڑا حصہ سروسز سیکٹر کو گیا ہے، جبکہ زرعی شعبے میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے جس کا پانچ سالہ گروتھ ریٹ 62 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ یہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ بینکنگ سیکٹر اب ان کاروباروں کی طرف متوجہ ہو رہا ہے جو طویل عرصے سے قرضوں کی فراہمی میں نظر انداز کیے گئے تھے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار مجموعی معاشی تناظر میں دیکھے جانے چاہئیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹجی (NFIS) کے تحت یہ ہدف مقرر کیا گیا تھا کہ 2028 تک ایس ایم ای قرضوں کا حجم نجی شعبے کے کل قرضوں کا 10 فیصد ہوگا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان نے یہ ہدف وقت سے دو سال پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے ہے کہ ماضی میں ہدف کا تعین کرنے اور اس کے حصول میں کئی بار رکاوٹیں آئی ہیں، جس کی وجہ سے حکمت عملیوں میں ردوبدل کرنا پڑا۔ مستقبل کے حوالے سے چیلنجز اب بھی برقرار ہیں۔ صرف 15 ذیلی شعبے ایسے ہیں جن کا ایس ایم ای بک حجم 10 ارب روپے سے زیادہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ قرضوں کی رسائی تاحال محدود ہے۔ خوردہ تجارت، تھوک تجارت اور زرعی پیداوار جیسے شعبے کل کریڈٹ کا 45 فیصد حصہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ 37 فیصد کی شرح نمو متاثر کن ہے، لیکن طویل مدتی پائیداری کے لیے ان قرضوں کا مزید متنوع ہونا ضروری ہے۔ مجموعی طور پر، یہ پیشرفت پاکستان میں چھوٹے کاروباروں کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے، بشرطیکہ بینکنگ سیکٹر اپنی کریڈٹ پالیسیوں میں مزید وسعت لائے اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے پیچیدگیوں کو کم کرے۔