LIVE
Loading Breaking News...

اسمارٹ واچز کا استعمال اور بڑھتی ہوئی ذہنی بے چینی: ایک جائزہ

News Image
آج کل کے دور میں کلائیوں پر بندھی اسمارٹ واچز صحت کی پیمائش کے ساتھ ساتھ لوگوں میں اضطراب اور جنونی رویوں کو بھی فروغ دے رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپنی ڈیجیٹل صحت کو بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک متوازن تعلق قائم کرنا ضروری ہے۔
موجودہ دور میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بہت حد تک بدل کر رکھ دیا ہے۔ لاکھوں افراد اپنی کلائیوں پر اسمارٹ واچز یا دیگر پہننے والے گیجٹس (Wearables) سجائے پھرتے ہیں، جن کا مقصد صحت کے میٹرکس کی پیمائش کرنا اور 'کوانٹیفائیڈ سیلف' کے تصور کو تقویت دینا ہے۔ یہ ڈیوائسز ہمیں قدموں کی گنتی، دل کی دھڑکن اور نیند کے دورانیے کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں، جس کا بظاہر مقصد ہمیں زیادہ فعال اور صحت مند بنانا ہے۔ تاہم، ماہرین اب خبردار کر رہے ہیں کہ یہ مسلسل ڈیٹا کی نگرانی ہمیں بے چینی اور ایک عجیب قسم کے جنونی رویے کی طرف لے جا رہی ہے۔ جب ہر منٹ کی سرگرمی کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے، تو انسان غیر شعوری طور پر خود کو ایک مشین کی طرح دیکھنے لگتا ہے، جس سے ذہنی سکون متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا منفی پہلو یہ ہے کہ لوگ اپنے جسمانی اشاروں کو سننے کے بجائے اسکرین پر نظر آنے والے ڈیٹا پر زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ اگر کسی کی اسمارٹ واچ اسے یہ بتائے کہ اس کی نیند کا معیار ٹھیک نہیں تھا، تو وہ شخص سارا دن اسی خیال میں پریشان رہتا ہے، حالانکہ وہ جسمانی طور پر خود کو تازہ دم محسوس کر رہا ہوتا ہے۔ یہ 'ڈیجیٹل اضطراب' انسان کی فطری صلاحیتوں پر سے اعتماد کم کر دیتا ہے۔ مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے صارفین اپنی واچ پر نظر آنے والے اعداد و شمار کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ ہر روز اپنے گزشتہ ریکارڈ کو بہتر کرنے کی دوڑ میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ عمل صحت کو بہتر بنانے کے بجائے اسے ایک مقابلہ بنا دیتا ہے، جو طویل مدتی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین نفسیات کا مشورہ ہے کہ ہمیں ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے تعلق پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسمارٹ واچز کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے، بلکہ یہ سیکھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کو بطور آلہ استعمال کریں نہ کہ بطور آقا۔ اپنے گیجٹس سے ملنے والی اطلاعات کو صرف ایک رہنمائی سمجھیں اور اپنی اندرونی کیفیت پر زیادہ بھروسہ کریں۔ اگر آپ خود کو ڈیٹا کے غلام محسوس کرنے لگیں، تو کچھ وقت کے لیے ان ڈیوائسز کو اتار کر رکھنا یا نوٹیفکیشنز کو بند کر دینا ایک بہترین فیصلہ ہو سکتا ہے۔ زندگی کا اصل مقصد متوازن رہنا ہے، نہ کہ ہر لمحے اپنے جسم کے ہر فنکشن کو ڈیجیٹل اسکرین پر دیکھ کر خود کو الجھن میں مبتلا کرنا۔ اپنی ذہنی سکون کو ٹیکنالوجی کے اعداد و شمار پر قربان نہ کریں، بلکہ اسے اپنی فلاح و بہبود کے لیے ایک مثبت معاون کے طور پر استعمال کریں۔