LIVE
Loading Breaking News...

ڈیٹا سینٹر انڈسٹری کی ترقی اور روزگار کے مواقع پر رپورٹ

News Image
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ڈیٹا سینٹر کے تیزی سے پھیلتے ہوئے انفراسٹرکچر سے رہائشی رئیل اسٹیٹ کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس شعبے کی ترقی سے 2030 تک مختلف شعبوں میں 4 لاکھ 33 ہزار سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
بھارت میں ڈیٹا سینٹر کا تیزی سے پھیلتا ہوا ایکو سسٹم نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں انقلاب برپا کر رہا ہے بلکہ یہ رہائشی رئیل اسٹیٹ کی مانگ کو بڑھانے اور شہری مراکز کی تعمیر و ترقی میں بھی ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ پراپ ٹیک کمپنی اسکوائر یارڈز کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، ڈیٹا سینٹرز کے قیام سے شہروں کے مضافاتی علاقوں میں رہائشی مکانات اور کمرشل پراپرٹیز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ ڈیٹا سینٹرز کی تنصیب کے لیے درکار وسیع تر انفراسٹرکچر کے ارد گرد نئے رہائشی کوریڈورز بننے کے قوی امکانات ہیں، جس سے شہری منصوبہ بندی کے نئے رجحانات سامنے آ رہے ہیں۔ اس تحقیق کا ایک اہم ترین پہلو روزگار کے مواقع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ڈیٹا سینٹر ایکو سسٹم کی وسعت کے نتیجے میں 2030 تک 4 لاکھ 33 ہزار سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ یہ ملازمتیں براہ راست ڈیٹا سینٹر کے آپریشنز کے علاوہ تعمیرات، آئی ٹی، نیٹ ورکنگ، سیکیورٹی، اور سپورٹ سروسز کے شعبوں میں ہوں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈیٹا سینٹر کی صنعت کا یہ پھیلاؤ مقامی معیشتوں کے لیے ایک اہم انجن ثابت ہوگا، جو نہ صرف ٹیکنالوجی کے ماہرین بلکہ عام ورکرز اور کنسٹرکشن سے وابستہ افراد کے لیے بھی آمدنی کے نئے ذرائع فراہم کرے گا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈیٹا سینٹر کی مانگ میں اضافے کے پیچھے کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا عمل کارفرما ہے۔ جیسے جیسے کمپنیاں اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے اور اسے تیزی سے پراسیس کرنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت شدت اختیار کر گئی ہے۔ یہ ٹرینڈ صرف بڑے میٹرو شہروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اب ٹائر ٹو اور ٹائر تھری شہروں میں بھی ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر توجہ دی جا رہی ہے، جس سے ان علاقوں میں ہاؤسنگ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔ حکومتی پالیسیاں اور ڈیجیٹل انڈیا انیشیٹو بھی اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈیٹا سینٹر کے شعبے میں سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے سالوں میں بھارت عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹر ہب کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔ یہ معاشی سرگرمی نہ صرف جائیداد کی قیمتوں میں استحکام اور اضافے کا باعث بنے گی بلکہ پورے ملک میں شہری ترقی کی ایک نئی لہر کو جنم دے گی، جس سے طویل مدتی معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔