LIVE
Loading Breaking News...

امریکی محکمہ دفاع کی دفاعی پیداوار بڑھانے کے لیے ہنگامی ہدایت

News Image
امریکی محکمہ دفاع نے ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے اور سپلائی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے دفاعی کمپنیوں کو سخت ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر کم ہونے والے ہتھیاروں کے ذخائر کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کرنا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ملک کی بڑی دفاعی کمپنیوں کو ایک ہنگامی ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیاروں کی پیداواری صلاحیت کو فوری طور پر بڑھائیں اور سپلائی کے ٹائم لائنز میں نمایاں تیزی لائیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مختلف عالمی تنازعات کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں تشویشناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور پینٹاگون کو اپنے دفاعی اثاثوں کی فوری بحالی کے لیے سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ پینٹاگون کے حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ عالمی سیکیورٹی صورتحال میں ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اس نئے حکمنامے کے تحت دفاعی ٹھیکیداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی فیکٹریوں میں کام کے اوقات کو بڑھائیں اور نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے پیداوار کی رفتار کو دگنا کریں۔ پینٹاگون کے حکام کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد نہ صرف امریکی فوج کی ضروریات کو پورا کرنا ہے بلکہ اتحادی ممالک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی مدد فراہم کرنا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام امریکی دفاعی صنعت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا، کیونکہ سرد جنگ کے بعد پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافے کے لیے حکومتی سطح پر براہ راست مداخلت کی جا رہی ہے۔ حکومت نے دفاعی کمپنیوں کو پیداواری عمل کو تیز کرنے کے لیے درکار مالی وسائل اور تکنیکی معاونت کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید میزائل سسٹمز، آرٹلری گولہ بارود اور دیگر اہم جنگی آلات کی تیاری پر خاص توجہ مرکوز کی جائے گی۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ سپلائی چین میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا ان کی اولین ترجیح ہے تاکہ میدانِ جنگ میں کسی بھی قسم کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔ اس پیش رفت سے عالمی دفاعی منڈی میں بھی ہلچل مچ گئی ہے اور ہتھیاروں کی طلب میں ایک نیا رجحان پیدا ہونے کی توقع ہے۔ آخر میں، یہ اقدامات امریکی عسکری طاقت کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں کا حصہ ہیں۔ پینٹاگون نے واضح کر دیا ہے کہ دفاعی کمپنیوں کو اب پیداواری اہداف حاصل کرنے کے لیے وقت کے سخت پابند رہنا ہوگا اور کسی بھی قسم کی سستی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس حکومتی فیصلے سے جہاں ایک طرف دفاعی صنعت میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے، وہیں دوسری طرف عالمی سطح پر سٹریٹجک توازن کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ کی عزم کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔