LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت: کیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس انسانی زندگی تباہ کر دے گی؟

News Image
حال ہی میں کیے گئے سروے کے مطابق امریکی عوام مصنوعی ذہانت کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں اور ان کے جذبات تجسس سے لے کر خوف تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار پھیلاؤ پر عوامی ردعمل تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
موجودہ دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی مصنوعی ذہانت کا موضوع بحث کا مرکز بن چکا ہے، تاہم ایک حالیہ سروے کے مطابق امریکی عوام کی اکثریت اس نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ لوگوں کے جذبات کا دائرہ کار عمومی بے حسی سے لے کر خوفناک تشویش تک پھیلا ہوا ہے۔ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کی ایک بڑی وجہ اس ٹیکنالوجی کی نامعلوم نوعیت اور اس کے انسانی روزگار پر ممکنہ اثرات ہیں۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا مشینیں ان کی جگہ لے لیں گی یا یہ معاشرتی ڈھانچے کو تباہ کر دیں گی۔ ماہرین کے مطابق اے آئی کے حوالے سے پایا جانے والا خوف بلاوجہ نہیں ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے تیزی سے ارتقاء نے پرائیویسی، ڈیٹا کے تحفظ اور اخلاقیات کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جہاں کچھ لوگ اسے انسانی ترقی کا اگلا قدم مانتے ہیں، وہیں ایک بڑا طبقہ اسے 'ڈیجیٹل اپوکلپس' یا ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانیت کے زوال سے تعبیر کر رہا ہے۔ عوامی سطح پر اس کا منفی تاثر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیک کمپنیاں ابھی تک لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو سمجھنا اور اسے ضابطہ اخلاق کے تحت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومتیں اور ٹیک ادارے بروقت ٹھوس اقدامات نہیں کرتے، تو عوامی خوف مزید گہرا ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں ٹیکنالوجی کی جدت پر پابندیوں کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔ مستقبل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ کس طرح انسانی ذہانت اور مشینی طاقت کو ایک متوازن انداز میں یکجا کیا جائے تاکہ معاشرے کو نقصان سے بچایا جا سکے اور اس کے فوائد عام آدمی تک پہنچائے جا سکیں۔