LIVE
Loading Breaking News...

بی ایم ڈبلیو کی مشہور ڈیزائن تاریخ اور کرس بینگل کا کام

News Image
کرس بینگل کی جانب سے ڈیزائن کردہ بی ایم ڈبلیو کی کاریں اپنے دور میں متنازع ہونے کے باوجود آج ایک کلاسک کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان کی جرات مندانہ ڈیزائننگ نے آٹوموبائل انڈسٹری پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
آٹوموبائل کی دنیا میں جب بھی ڈیزائن کی تاریخ پر بات کی جاتی ہے تو کرس بینگل (Chris Bangle) کا نام ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ خاص طور پر بی ایم ڈبلیو کے ان ماڈلز کو جنہیں عوامی حلقوں میں 'بینگل بٹ' (Bangle Butt) کے نام سے پکارا جاتا تھا، آج وقت کے ساتھ ایک نئی پہچان ملی ہے۔ ایک ایسا ڈیزائن جو اپنے وقت میں انتہائی متنازع اور ناقابل قبول سمجھا جاتا تھا، اب گاڑیوں کے شوقین افراد اسے جدید آٹوموٹو ڈیزائن کا ایک جرات مندانہ قدم قرار دیتے ہیں۔ اس وقت جب بی ایم ڈبلیو نے ای60 (E60) 5 سیریز متعارف کروائی تھی تو ناقدین نے اس کے پچھلے حصے (عقبی ڈیزائن) پر شدید تنقید کی تھی۔ لیکن آج دہائیاں گزر جانے کے بعد وہی ڈیزائن ایک کلاسک اور منفرد انداز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کرس بینگل کی یہ جرات مندی صرف 5 سیریز تک محدود نہیں تھی بلکہ زیڈ 4 (Z4) جیسے ماڈلز نے بھی اس دور میں گاڑیوں کی ظاہری ہیئت کے تصور کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا تھا۔ اس دور کے ڈیزائنرز کے لیے بینگل کی یہ تخلیقی سوچ کسی چیلنج سے کم نہیں تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ڈیزائن اب بہت پرسکون اور متوازن محسوس ہوتے ہیں، حالانکہ اپنے ابتدائی دنوں میں یہی ڈیزائنز سڑکوں پر ایک بحث کا موضوع بنے رہتے تھے۔ ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ بینگل نے بی ایم ڈبلیو کے روایتی ڈیزائن کے خول کو توڑ کر اسے ایک جدید اور مستقبل سے ہم آہنگ برانڈ میں تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی تھی۔ آٹوموٹو تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ہر انقلابی تبدیلی کو شروع میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم بینگل کی ڈیزائننگ فلاسفی نے ثابت کر دیا ہے کہ اچھی آرٹ اور ڈیزائن وقت کی قید سے آزاد ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں جب ہم پرانی بی ایم ڈبلیو کاروں کو سڑکوں پر دیکھتے ہیں، تو ان کے منفرد کروز اور ڈیزائن کی لائنز ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ کس طرح ایک وقت میں نفرت انگیز سمجھی جانے والی چیز آج ایک لگژری کا احساس دیتی ہے۔ یہ بی ایم ڈبلیو کی تاریخ کا وہ باب ہے جس نے اس لگژری برانڈ کو ایک نئی جہت عطا کی اور آج یہ ماڈلز کاروں کے کلکٹرز کے لیے کسی قیمتی اثاثے سے کم نہیں ہیں۔