World
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور ملک بھر میں جشن کی تیاریاں
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے دستخط کے بعد پاکستان سمیت مختلف ممالک میں جشن کا ماحول جاری ہے۔ ترک وزیر کے مطابق یہ دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو کے آرٹیکل فائیو کی طرح ہے۔
مکہ مکرمہ میں ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان سمیت مختلف ممالک میں خوشی اور جشن کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے میں سعودی عرب نے مسلم دنیا کے عسکری لحاظ سے طاقتور ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر لیا ہے جسے خطے کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ریڈیو پاکستان اور دیگر عالمی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس نئے دفاعی اتحاد کو بڑی پذیرائی مل رہی ہے اور عوام میں اس حوالے سے گہرا جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
ترک وزیر نے اس معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا یہ دفاعی معاہدہ تکنیکی طور پر نیٹو کے معروف آرٹیکل فائیو کے یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اتحاد کے کسی بھی رکن ملک پر حملہ تمام اراکین پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے خطے میں دفاعی توازن اور سکیورٹی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔ بین الاقوامی میڈیا کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ محض ایک روایتی علاقائی اتحاد نہیں ہے بلکہ اس کے دور رس اسٹریٹجک اثرات مرتب ہوں گے۔
سی این این اور الجزیرہ کی رپورٹس میں بھی اس پیشرفت کو نمایاں جگہ دی گئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اور جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے مسلم دنیا کے اہم عسکری ممالک کے ساتھ اس دفاعی معاہدے کو خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے کے نفاذ سے اتحادی ممالک کی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ اور مضبوط لائحہ عمل تیار کیا جا سکے گا۔
پاکستان کے عوام اور سیاسی و عسکری حلقوں میں بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں اس تاریخی موقع پر تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں اسٹریٹجک اہمیت کے حامل اس معاہدے کو مسلم امہ کے اتحاد کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کی طرف سے اس امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ یہ اتحاد نہ صرف ارکان ممالک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنائے گا بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔