LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا قتل کیس: ہائی کورٹ کے جج تحقیقات کریں گے

News Image
صوبائی وزیر داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ میر رضا قتل کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔ مقتول کی لاش کی دوبارہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور نئے شواہد سامنے آنے کے بعد کیس میں قتل کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ کی جانب سے میر رضا قتل کیس کے حوالے سے ایک انتہائی اہم پیش رفت کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں کیس کی تحقیقات کے لیے ہائی کورٹ کے جج کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر داخلہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے پرعزم ہے، اس لیے عدالتی سطح پر انکوائری کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔ اس اقدام کو عوامی حلقوں اور متاثرہ خاندان کی جانب سے انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ کیس کے حوالے سے سامنے آنے والی نئی تفصیلات کے مطابق میر رضا کی موت کو مشکوک قرار دیتے ہوئے اس میں قتل کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول کی لاش کو حال ہی میں قبر کشائی کے بعد دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے نکالا گیا تھا، جس کی فرانزک رپورٹ نے تحقیقات کا رخ موڑ دیا ہے۔ اس نئی طبی رپورٹ کے بعد تفتیشی اداروں نے کیس کی ازسرنو تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور کئی اہم پہلوؤں پر تفتیش کو مزید وسعت دی جا رہی ہے جس سے کیس میں ملوث ممکنہ ملزمان کے گرد گھیرا تنگ ہونے کا امکان ہے۔ اس سنگین معاملے کی تفتیش کے لیے پولیس کی جانب سے ایک نئی خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے جو کیس سے جڑے تمام شواہد کو اکٹھا کر رہی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں کے دوران اس کیس میں کافی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے جس میں عینی شاہدین کے بیانات اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حاصل ہونے والے ثبوت شامل ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ میر رضا کے قتل میں ملوث کسی بھی طاقتور عنصر کو رعایت نہیں دی جائے گی اور جوڈیشل کمیشن اس کیس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لے کر اپنی رپورٹ مرتب کرے گا۔ واضح رہے کہ میر رضا کی ہلاکت کے بعد سے ہی ان کے لواحقین کی جانب سے انصاف کے لیے شدید احتجاج کیا جا رہا تھا، اور مختلف حلقوں کی جانب سے اس کیس کو قتل قرار دینے کے مطالبے کیے جا رہے تھے۔ اب جبکہ ہائی کورٹ کے جج کی نگرانی میں تحقیقات کا اعلان کر دیا گیا ہے، توقع کی جا رہی ہے کہ کیس کے تمام تانے بانے جلد ہی کھل جائیں گے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں گے۔ تفتیشی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید اہم گرفتاریاں بھی متوقع ہیں، اور اس کیس کا منطقی انجام تک پہنچایا جانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔