World
اسرائیلی قید میں فلسطینی نوجوان ایہاب دیاب کی ہلاکت کا انکشاف
اسرائیلی حکام نے بالاآخر دو سال تاخیر کے بعد ایک فلسطینی قیدی ایہاب دیاب کی جیل میں ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ مقتول کے لواحقین نے اسرائیلی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے اسے تشدد کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی حکام کی جانب سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس میں تقریباً دو سال کی تاخیر کے بعد ایک فلسطینی قیدی ایہاب دیاب کی جیل میں موت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ اس واقعے نے انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اتنے طویل عرصے تک قیدی کی ہلاکت کو چھپائے رکھنا بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایہاب دیاب کی موت صحت کے مسائل کے باعث ہوئی، تاہم ان دعووں کو خاندان نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ مقتول کے لواحقین کا موقف ہے کہ ایہاب کی موت کسی قدرتی وجہ سے نہیں بلکہ اسرائیلی جیل میں ہونے والے بدترین تشدد کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حراست کے دوران انہیں بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا اور ان پر بدترین جسمانی و ذہنی تشدد کیا گیا، جس کی وجہ سے ان کی حالت بگڑتی گئی اور آخرکار ان کی موت واقع ہو گئی۔ خاندان کا یہ مطالبہ ہے کہ اس واقعے کی شفاف بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقیقت دنیا کے سامنے آ سکے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی حالت زار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اسرائیلی جیلوں میں فلسطینیوں کی مشکوک حالات میں موت ہوئی ہو، لیکن اتنے طویل عرصے تک موت کی اطلاع کو خفیہ رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایہاب دیاب کے معاملے میں تاخیر نے خاندان کے زخموں کو مزید گہرا کر دیا ہے اور اب انصاف کے حصول کے لیے عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ جیلوں میں قید دیگر فلسطینیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ایہاب دیاب کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔