LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم ملائیشیا انور ابراہیم کی طبیعت، تازہ ترین تفصیلات

News Image
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم اپنے معالجین کے مشورے پر طبی معائنے اور ایک پروسیجر کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ حکومتی ترجمان نے ان کی صحت کے حوالے سے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ وہ ماہرین کی زیر نگرانی ہیں۔
ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کی صحت کے حوالے سے حکومتی سطح پر ایک اہم اعلان کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ 79 سالہ رہنما فی الحال طبی معائنوں اور ایک خاص طبی پروسیجر کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ مختصر بیان کے مطابق، یہ تمام تر طبی اقدامات ان کے ذاتی ماہر معالجین کے مشورے اور ہدایت کے تحت سرانجام دیے جا رہے ہیں۔ ملائیشیا کے وزیراعظم کے دفتر نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ یہ ایک طے شدہ طبی عمل کا حصہ ہے تاکہ ان کی صحت کو برقرار رکھنے اور ممکنہ طبی ضروریات کو بروقت پورا کیا جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انور ابراہیم کے معالجین ان کی صحت کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں ماہرین کی زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔ اگرچہ حکومتی بیان میں بیماری کی نوعیت یا پروسیجر کے بارے میں بہت زیادہ تکنیکی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں، تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ ان کی طبی ضروریات کو ماہرین کی ٹیم کی جانب سے مکمل پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ پورا کیا جا رہا ہے۔ انور ابراہیم، جو ملائیشیا کی سیاست میں ایک قدآور شخصیت سمجھے جاتے ہیں، اپنی بھرپور مصروفیات کے باوجود اپنی صحت کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی ملائیشیا کے وزیراعظم کے اس طبی عمل کے حوالے سے تشویش اور نیک خواہشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جلد ہی اپنی سرکاری مصروفیات کی طرف واپس لوٹیں گے، تاہم فی الحال انہیں مکمل آرام اور طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔ شہریوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے انور ابراہیم کی جلد صحت یابی کے لیے دعاوں کا سلسلہ جاری ہے اور ملائیشیائی عوام اپنے رہنما کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سرکاری حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وزیراعظم کی غیر موجودگی میں حکومتی معاملات اور دفتری امور اپنی معمول کے مطابق جاری رہیں گے اور انتظامی معاملات میں کسی قسم کا تعطل پیدا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حکومتی ترجمان نے میڈیا اور عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ ان کی صحت کے حوالے سے غیر تصدیق شدہ خبروں سے گریز کریں اور صرف سرکاری اعلامیوں پر انحصار کریں۔