Pakistan
آزاد کشمیر الیکشن: باغ اور حویلی میں پولنگ کا عمل جاری
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے تیسرے مرحلے کے تحت پونچھ ڈویژن کے اضلاع باغ اور حویلی میں سخت سکیورٹی کے درمیان ووٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے حساس پولنگ اسٹیشنوں پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی ہے۔
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے تیسرے مرحلے کا آغاز آج صبح آٹھ بجے پونچھ ڈویژن کے اضلاع باغ اور حویلی کے چار انتخابی حلقوں میں ہو چکا ہے۔ پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک بلا تعطل جاری رہے گا جس کے دوران لاکھوں رجسٹرڈ ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے ان چاروں حلقوں میں قائم 803 پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے علاوہ دس ہزار سے زائد اضافی فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ عوام خوف سے آزاد ہو کر اپنا ووٹ ڈال سکیں۔
انتخابی صورتحال پر بات کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے سیکرٹری راجہ محمد شکیل نے بتایا کہ پولنگ کے عمل کو شفاف بنانے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ اس مرحلے میں کل 82 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے حلقہ LA-14 ڈھیرکوٹ میں سب سے زیادہ 30 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، جبکہ حویلی کے حلقے میں امیدواروں کی تعداد نو ہے۔ واضح رہے کہ پہلے دو مراحل میں مسلم لیگ ن نے برتری حاصل کی ہے اور اب پونچھ ڈویژن کے ان علاقوں میں ہونے والے انتخابات سیاسی جماعتوں کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا ایک بڑا موقع ہیں۔
انتخابی دنگل میں متعدد اہم سیاسی شخصیات کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور، سابق وزرائے اعظم سردار تنویر الیاس اور سردار عتیق احمد خان سمیت کئی بڑے رہنما میدان میں ہیں۔ حلقہ LA-17 میں فیصل ممتاز راٹھور اور ان کے سابق حلیف خواجہ طارق سعید کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ دوسری جانب حلقہ LA-15 میں سردار تنویر الیاس کا مقابلہ پی ایم ایل این کے مشتاق منہاس اور پی پی پی کے سردار ضیاء القمراور جماعت اسلامی کے امیدوار سے ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کے نتائج آزاد کشمیر کی اگلی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
انتخابی مہم کے دوران سوشل میڈیا پر کچھ بے قاعدگیوں کی شکایات بھی سامنے آئیں، جس پر الیکشن کمیشن نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو پریزائیڈنگ افسران کو ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی دھاندلی یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ سات حلقوں میں انتخابات کا انعقاد اگست کے آخر تک متوقع ہے، تاہم موجودہ پولنگ کے نتائج پر تمام سیاسی جماعتوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں کیونکہ یہ حلقے خطے کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔