Pakistan
لاہور تھانے میں دو لڑکیوں کی ہلاکت پر عدالتی تحقیقات کا حکم
لاہور کے ٹاؤن شپ تھانے میں دو کمسن لڑکیوں کی مشکوک موت کے معاملے پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176 کے تحت جوڈیشل انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پولیس کا مؤقف ہے کہ موت منشیات کے زائد استعمال سے ہوئی۔
لاہور کے ٹاؤن شپ پولیس اسٹیشن میں چار اگست کو دو کمسن لڑکیوں آمنہ اور انمول کی پولیس حراست کے دوران ہونے والی پراسرار ہلاکتوں کے معاملے پر ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 176 کے تحت عدالتی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم متاثرہ خاندانوں کی جانب سے انصاف کے مطالبے اور واقعے پر اٹھنے والے شدید شکوک و شبہات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے۔ قانون کی مذکورہ دفعہ مجسٹریٹ کو اس بات کا اختیار دیتی ہے کہ وہ پولیس حراست میں ہونے والی ہلاکتوں کے اسباب کا تعین کرے، جس میں لاشوں کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کروانے کے علاوہ گواہوں کے بیانات قلمبند کرنا بھی شامل ہے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق، چار اگست کو دوپہر پونے تین بجے ایک شہری ذیشان لطیف نے پولیس کو اطلاع دی کہ دو لڑکیوں نے اس کے گھر میں داخل ہو کر زیورات اور نقدی چوری کی ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لڑکیوں کو حراست میں لیا اور تھانے منتقل کر دیا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ ابتدائی ویڈیوز میں لڑکیاں ہوش و حواس میں اور نارمل دکھائی دے رہی تھیں۔ تاہم شام چھ بجے کے قریب پولیس نے ریسکیو 1122 کو مدد کے لیے طلب کیا، جس کے بعد دونوں لڑکیوں کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دورانِ علاج دم توڑ گئیں۔ پولیس حکام نے ان ہلاکتوں کو منشیات کا زائد استعمال قرار دیا ہے جبکہ لواحقین کا مؤقف ہے کہ معاملہ پولیس تشدد کا ہو سکتا ہے۔
پولیس کے آپریشن اور انویسٹی گیشن ونگز کے درمیان حراست کے حوالے سے ذمہ داریوں کا تنازعہ بھی سامنے آیا ہے، جس کے بعد اعلیٰ حکام نے شفاف تحقیقات کے لیے عدالتی انکوائری کا راستہ اختیار کیا۔ اب جوڈیشل انکوائری کے دوران تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج، ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کے بیانات اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایس ایس پی محمد نوید نے حراست میں تشدد کے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کی حقیقت کو منظر عام پر لانے کے لیے ہر ممکن تعاون کر رہے ہیں تاکہ لواحقین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔