LIVE
Loading Breaking News...

آزاد کشمیر میں 10 مزید افراد فورتھ شیڈول میں شامل

News Image
آزاد جموں و کشمیر حکومت نے ممنوعہ تنظیم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے مبینہ تعلق پر 10 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کر لیا ہے۔ ان افراد کی نقل و حرکت، غیر ملکی سفر اور مالیاتی لین دین اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت نگرانی میں ہوگا۔
آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت خطے کے مزید 10 رہائشیوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ان افراد کی جانب سے ممنوعہ تنظیم 'جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی' (JK-JAAC) کے ساتھ مبینہ وابستگی کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ 5 جون کو ہونے والے آزاد کشمیر کابینہ کے اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 16 (1) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان 10 افراد کے ناموں کی منظوری دی۔ فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے افراد میں اعجاز احمد خان، عذرا عالم، محمد زوہیب خان، محمد نبیل تبسم، ذیشان احمد، راجہ وسیم صابر، راجہ محمد منصور خان، قیصر کلیم، حمزہ نصیر اور نبیلہ ارشاد شامل ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان افراد کا تعلق باغ، مظفرآباد، پونچھ اور سدھنوتی کے اضلاع سے ہے جبکہ باقی چار افراد کے اضلاع کی تفصیلات فی الحال فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ فورتھ شیڈول میں نام آنے کے بعد، متعلقہ افراد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت نگرانی شروع ہو جائے گی۔ اس فہرست میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکتا ہے، جبکہ ان کے غیر ملکی سفر، نقل و حرکت اور مالیاتی لین دین پر بھی گہری نظر رکھی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام کرنا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کی کاپیاں وزارت داخلہ، نادرا، نیکٹا، ایف آئی اے، چیف سیکریٹری آزاد کشمیر، پولیس حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن میں ان 10 افراد پر عائد انفرادی الزامات یا مخصوص سرگرمیوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ تاہم، حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان افراد کی سرگرمیاں ریاستی سلامتی کے ضابطہ اخلاق کے برعکس دیکھی جا رہی تھیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ان افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت کے حوالے سے قانون کے مطابق اپنے متعلقہ تھانوں کو مطلع کرنے کے پابند ہوں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔