Pakistan
یلو لائن کرپشن کیس: نیب نے ضمیر عباسی کے خلاف تحقیقات تیز کر دیں
کراچی کے 8.5 ارب روپے مالیت کے یلو لائن کرپشن کیس کے مرکزی ملزم ضمیر عباسی کے خلاف نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور غیر قانونی تعیناتیوں پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اینٹی کرپشن کی جانب سے گرفتاری کے بعد اب قومی احتساب بیورو نے ملزم سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔
کراچی کے 8.5 ارب روپے مالیت کے یلو لائن کرپشن کیس میں مرکزی ملزم اور کراچی موبلٹی پروجیکٹ کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے ضمیر عباسی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے اور سندھ حکومت میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی تعیناتیوں اور ترقیاں حاصل کرنے کے الزامات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیب حکام کی جانب سے ملزم کے اور ان کے اہل خانہ کے نام پر موجود جائیدادوں اور اثاثوں کی مکمل تفصیلات متعلقہ محکموں سے طلب کر لی گئی ہیں تاکہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
اس سے قبل جون میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (اے سی ای) سندھ نے ضمیر عباسی اور ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جمن کے خلاف تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا تھا۔ انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ ملزمان نے ٹھیکیداروں کو بینک گارنٹی کے بغیر 8.5 ارب روپے کی پیشگی ادائیگیاں کیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹھیکیداروں کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں پیشگی ادائیگی یا مالی معاونت کی کوئی شق موجود ہی نہیں تھی، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مالی بدعنوانی کا ایک منظم منصوبہ تھا۔ اینٹی کرپشن ٹیم نے ضمیر عباسی کو لاہور سے گرفتار کر کے کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش کیا تھا جہاں عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔
ضمیر عباسی کے کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو انکشاف ہوا ہے کہ وہ اپنے کیریئر کے آغاز میں خود نیب کا حصہ رہ چکے ہیں اور بعد ازاں انہیں سندھ پولیس میں بطور ڈی ایس پی تعینات کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی ہدایات پر انہیں دوبارہ ان کے بنیادی ادارے نیب میں بھیج دیا گیا، جہاں وہ 2016 تک خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی سال انہیں گریڈ 17 کا سیکشن آفیسر تعینات کیا گیا، جس پر عدالت میں چیلنج کیا گیا کہ یہ تقرری بے قاعدگیوں کے ذریعے کی گئی تھی۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران آؤٹ آف ٹرن پروموشن حاصل کی اور جب معاملہ عدالت پہنچا تو فیصلہ آنے سے قبل ہی وہ گریڈ 19 میں ترقی پا گئے۔
سال 2022 میں ضمیر عباسی کو ایک اور اہم عہدے پر تعینات کیا گیا جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا اور عدالت نے تقرری کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا۔ کچھ عرصے تک منظر سے غائب رہنے کے بعد وہ دوبارہ اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اب نیب کی تازہ کارروائی کے بعد یہ امید کی جا رہی ہے کہ ان کی جانب سے کی گئی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور غیر قانونی تقرریوں کے تمام تانے بانے کھل کر سامنے آ جائیں گے اور قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔