Business
پاکستان کا مالیاتی بحران اور توانائی کے شعبے کے چیلنجز
پاکستان کو مالی سال 2026 میں ایک ایسے تضاد کا سامنا ہے جہاں ظاہری مالی استحکام کے باوجود گہرے ساختی مسائل برقرار ہیں۔ توانائی کے شعبے کے مہنگے معاہدے اور گردشی قرضے ملکی معیشت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
پاکستان کو مالی سال 2026 کے دوران ایک پیچیدہ مالیاتی صورتحال کا سامنا ہے، جہاں اعداد و شمار میں معمولی بہتری کے باوجود معاشی ڈھانچہ شدید دباؤ میں دکھائی دیتا ہے۔ مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران مالیاتی خسارے میں کمی تو ریکارڈ کی گئی ہے، لیکن یہ بہتری انتہائی نازک بنیادوں پر کھڑی ہے۔ ملک پر کل عوامی قرضہ 83.29 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ صرف 11 ماہ میں سود کی ادائیگیوں کی مد میں 6.16 ٹریلین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے مالی سال 2027 کے لیے خسارے کا تخمینہ 3.2 فیصد لگایا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب بھی سخت مالیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
اس مالیاتی تناؤ کا سب سے بڑا مرکز توانائی کا شعبہ ہے، جہاں 'کیپیسٹی پیمنٹس' یعنی صلاحیت کے ادائیگیوں کے معاہدے معیشت کی کمر توڑ رہے ہیں۔ پاور پرچیز ایگریمنٹس کے تحت حکومت کو بجلی گھروں کو بھاری رقوم ادا کرنی پڑتی ہیں چاہے بجلی پیدا ہو یا نہ ہو۔ مالی سال 2025 میں صارفین نے بجلی کے بلوں میں تقریباً 1.81 ٹریلین روپے صرف کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے، جو کہ بجلی کی کل قیمت کا 61 فیصد بنتا ہے۔ ڈالر کے ساتھ منسلک منافع اور غیر ملکی کرنسی میں قرضوں کی ادائیگیوں نے پاکستان کے لیے زرِ مبادلہ کا بحران مزید گہرا کر دیا ہے، خاص طور پر سی پیک سے وابستہ منصوبوں کے واجبات حکومت کے لیے ایک مستقل دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔
حکومت نے گردشی قرضوں کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے کچھ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کی ہے جس سے طویل مدتی بچت کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم یہ کافی نہیں ہے۔ گردشی قرضہ، جو وقتی طور پر کم ہوا تھا، دوبارہ 1.84 ٹریلین روپے کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ توانائی کے شعبے کے ان ساختی مسائل کے علاوہ، وفاقی اور صوبائی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات بھی وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے باوجود، ٹیکس محصولات اور عوامی خدمات کی فراہمی میں توازن قائم نہ رہ سکا۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کو اب ایک ایسے وفاقی نظام کی ضرورت ہے جو زیادہ جوابدہ اور ترقی پر مبنی ہو، تاکہ طویل المدتی مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔