Politics
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اور اختیارات کی منتقلی کا بحران
پنجاب حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لیے فنڈز کی منظوری ایک خوش آئند قدم ہے مگر اس کا مقصد حقیقی جمہوریت کے بجائے انتظامی مرکزیت کو بچانا معلوم ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر اختیارات کے بلدیاتی ادارے صرف ایک رسمی ڈھانچہ ثابت ہوں گے۔
پنجاب کابینہ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لیے فنڈز مختص کرنے کا فیصلہ طویل عرصے سے معطل نچلی سطح کی جمہوریت کی بحالی کی جانب ایک پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صوبے میں یہ انتخابات آئینی طور پر اپریل 2022 تک ہونے چاہیے تھے، تاہم طویل قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کے بعد اب یہ عمل شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے، لیکن اس فیصلے کا وقت انتہائی اہم ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی سطح پر نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کی بحث گرم ہے، اور حکومت بلدیاتی نظام کو مضبوط دکھا کر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہی مسائل کا حل ہے، نہ کہ صوبوں کی تقسیم۔
بدقسمتی سے پنجاب میں نافذ موجودہ بلدیاتی قانون اختیارات کی حقیقی منتقلی سے کوسوں دور ہے۔ یہ قانون صرف نام کی حد تک بلدیاتی ہے کیونکہ تمام تر انتظامی اور مالیاتی اختیارات تاحال صوبائی حکومت اور بیوروکریسی کے پاس مرکوز ہیں۔ منتخب بلدیاتی نمائندے معمولی نوعیت کے فیصلوں کے لیے بھی صوبائی حکام کی خوشنودی کے محتاج رہیں گے۔ اس طرح کا نظام بلدیاتی اداروں کے بنیادی مقصد کو ہی ختم کر دیتا ہے، جس کا مقصد فیصلوں میں عوام کی شرکت کو یقینی بنانا اور انہیں بااختیار بنانا ہوتا ہے۔ پنجاب کا یہ ماڈل ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بھی انتہائی مرکزی نوعیت کا ہے، جہاں بلدیاتی اداروں کو کسی حد تک بہتر گنجائش میسر ہے۔
گزشتہ چھ دہائیوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ صرف انتخابات کروانا ہی کافی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی حکومتیں اپنی سہولت کے مطابق بلدیاتی قوانین میں تبدیلیاں کرتی رہی ہیں یا انہیں تحلیل کرتی رہی ہیں۔ گراس روٹ جمہوریت کو ایک مستقل آئینی ضرورت کے بجائے ایک اختیاری عمل سمجھنا جمہوریت کی کمزوری کا باعث بنا ہے۔ ایک فعال تیسرے درجے کی حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے آئینی طور پر مالیاتی اور انتظامی خودمختاری حاصل ہو۔ جب تک مقامی پولیس اور بیوروکریسی منتخب نمائندوں کو جوابدہ نہیں ہوگی، بلدیاتی ادارے محض مشاورتی باڈیز بن کر رہ جائیں گے۔
پنجاب اور دیگر صوبوں کو درپیش گورننس کے سنگین مسائل کی بنیادی وجہ طاقت کا ضرورت سے زیادہ ارتکاز ہے۔ ایسے قانون کے تحت انتخابات کروانا جو بلدیاتی اداروں کو حقیقی خودمختاری سے محروم رکھے، صرف ایک آئینی خانہ پری تو ہو سکتی ہے، لیکن اس سے گورننس کا وہ بحران حل نہیں ہوگا جس کی وجہ سے صوبوں کی تقسیم یا نئے انتظامی یونٹس کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر حکومت واقعی بہتری چاہتی ہے تو اسے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے ایک مضبوط اور بااختیار بلدیاتی ڈھانچے کو یقینی بنانا ہوگا، بصورت دیگر یہ عمل بھی ماضی کی طرح محض ایک رسمی کارروائی تک محدود رہے گا۔