LIVE
Loading Breaking News...

انقلابات کی وجوہات اور حکمرانوں کی غلطیاں - تجزیہ

News Image
تاریخی اور سیاسی تناظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ بڑی حکومتوں کا خاتمہ اکثر بظاہر چھوٹے مطالبات یا معمولی چنگاریوں سے ہوتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمران عوامی بے چینی کو نظر انداز کرتے ہیں جو بعد میں ایک بڑے طوفان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
تاریخی اور سیاسی تناظر میں یہ بات ہمیشہ سے واضح رہی ہے کہ بڑے انقلابات کی پیشگوئی کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن اس چنگاری کی نشاندہی کرنا ناممکن ہوتا ہے جو اس بڑے دھماکے کا سبب بنتی ہے۔ صدیوں سے یہ دیکھا گیا ہے کہ جب معاشرے میں معاشی نابرابری، ناانصافی اور ظالم ریاستوں کا رویہ اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے، تو حالات خود بخود کسی بڑے ردعمل کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، وہ آخری تنکا جو اونٹ کی کمر توڑ دیتا ہے، بظاہر انتہائی چھوٹا اور غیر اہم معلوم ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش کی مثال لے لیجیے، جہاں ملازمتوں کے کوٹے کے معمولی مسئلے نے حسینہ واجد کی پندرہ سالہ حکومت کا اچانک خاتمہ کر دیا۔ بظاہر یہ کوٹہ محدود نوکریوں سے متعلق تھا، لیکن یہ عوام میں جمع ہونے والے گہرے اشتعال کا محض ایک ظاہری سبب بن گیا۔ حسینہ واجد، مطلق العنان اقتدار کے غرور میں مبتلا، یہ سمجھتی تھیں کہ یہ معاملہ خود بخود ختم ہو جائے گا، لیکن اس نے پوری حکومت کو بہا کر رکھ دیا۔ اسی طرح نیپال میں بھی، جہاں سیاسی بدعنوانی اور بیروزگاری کے خلاف پہلے ہی غصہ پایا جاتا تھا، جن زیڈ (Gen Z) نوجوانوں کے سڑکوں پر نکلنے کی اصل وجہ سوشل میڈیا کی بندش بنی۔ حکومت نے اسے ایک ضابطہ کار قرار دیا، لیکن مظاہرین کا خیال تھا کہ حکمراں طبقے کے بچوں کے عیش و عشرت کو چھپانے کے لیے یہ پابندی لگائی گئی۔ جب ریاستیں ایسے معاملات پر دیر سے توجہ دیتی ہیں، تب تک آگ پورے معاشرے میں پھیل چکی ہوتی ہے۔ نیپال میں حکومت نے چند روز بعد پابندی ہٹا بھی دی اور وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اکثر ریاستی جبر اور ضرورت سے زیادہ سختی ہی سادہ احتجاج کو مسلح بغاوت میں تبدیل کر دیتی ہے۔ روس میں سنہ 1905 کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے جہاں پادری جارجی گیپون کی قیادت میں ایک پرامن جلوس پر شاہی فوج نے فائرنگ کر دی، جس سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس سانحے نے زارِ روس کے زوال کی بنیاد رکھ دی۔ دنیا بھر کی ریاستوں، بشمول ہمارے اپنے نظام کے لیے، اس میں واضح سبق موجود ہیں۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کو اس وقت حل کریں جب وہ قابلِ علاج ہوں، اور کبھی بھی طاقت کے بے دریغ استعمال سے گریز کریں کیونکہ ماضی کے آزمائے ہوئے ہتھکنڈے آج کے دور میں الٹا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔