LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں پر بحث: حقیقت اور امکانات

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور فوجی ترجمان کی جانب سے نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کی تجویز پر ملک بھر میں سیاسی اور آئینی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ گورننس کا اصل بحران صوبوں کی تعداد میں نہیں بلکہ اشرافیہ کے قبضے اور سیاسی عدم استحکام میں پنہاں ہے۔
حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے حوالے سے شروع کی گئی بحث نے ملک کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزیر داخلہ کا یہ موقف کہ موجودہ نظامِ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور اسے تبدیل کرنے کے لیے نئے صوبوں کی ضرورت ہے، نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ وکلاء برادری اور سول سوسائٹی کے سخت ردعمل کا سامنا کر رہا ہے۔ اس تجویز کو فوجی ترجمان کی جانب سے ملنے والی حمایت نے اس بحث کو ایک نیا رخ دیا ہے، تاہم پاکستان کی اہم سیاسی جماعتوں، خاص طور پر پیپلز پارٹی اور دیگر علاقائی گروہوں نے اسے وفاق کی اکائیوں کو کمزور کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت کئی قانونی حلقوں نے اسے غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جو لوگ موجودہ نظام کی تباہی کے ذمہ دار ہیں، وہ اب نئے نظام کے نام پر کیا نیا ڈھانچہ لانا چاہتے ہیں۔ ماہرینِ سیاسیات کا ماننا ہے کہ پاکستان کو درپیش گورننس کا بحران صوبوں کی تعداد یا ان کے حجم سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں اشرافیہ کے قبضے (Elite Capture) میں پیوست ہیں۔ ملک کے وسائل اور اختیارات پر سیاسی و عسکری اشرافیہ کا ایک ایسا گٹھ جوڑ قائم ہے جو اپنی مراعات کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ساختی اصلاحات سے گریزاں ہے۔ جب تک مقامی حکومتوں کو بااختیار نہیں بنایا جاتا اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے جاتے، محض صوبوں کی تقسیم سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ آئینِ پاکستان میں صوبوں کی حدود میں تبدیلی یا نئے صوبوں کے قیام کا طریقہ کار انتہائی واضح ہے، جس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت سے قرارداد کی منظوری ضروری ہے۔ اس قانونی عمل کو نظر انداز کر کے یکطرفہ اقدامات اٹھانے کی کوششیں صرف سیاسی عدم اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ ملک کو درپیش اصل چیلنجز طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام، معاشی اصلاحات میں ناکامی اور غیر ملکی قرضوں پر انحصار ہیں۔ پاکستان کا معاشی ماڈل مسلسل 'قرض پر مبنی ترقی' کے گرد گھومتا رہا ہے، جس میں حکمران اشرافیہ نے ملکی وسائل کو خود کفیل بنانے کے بجائے غیر ملکی امداد اور آئی ایم ایف کے پیکجز پر انحصار کو ترجیح دی۔ اس پالیسی نے ملک کو کم ترقی، کم سرمایہ کاری اور بھاری قرضوں کے جال میں پھنسا دیا ہے۔ آج جب ملک کے ایک صوبے میں شورش، دوسرے میں دہشت گردی اور آزاد کشمیر میں مہنگائی و عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، ایسے میں انتظامی یونٹس کی بحث چھیڑنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ گورننس کی بہتری کے لیے درکار اصلاحات، یعنی ٹیکس اصلاحات، زمینی اصلاحات اور قانون کی حکمرانی، کو پس پشت ڈال کر محض انتظامی ڈھانچے تبدیل کرنے سے عوامی مشکلات کا خاتمہ ممکن نہیں۔