LIVE
Loading Breaking News...

کورونا فراڈ کی مفرور ملزمہ جمیکا سے گرفتار اور امریکہ منتقل

News Image
کورونا وائرس کے دوران 32 ملین ڈالر کے فراڈ میں مطلوب مفرور ملزمہ کو جمیکا سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے اس گرفتاری کو مالیاتی جرائم کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کے دوران ریلیف فنڈز سے کروڑوں ڈالر کا فراڈ کرنے والی ایک مفرور ملزمہ کو جمیکا سے گرفتار کر کے امریکہ واپس لایا گیا ہے۔ یہ ملزمہ کووڈ-19 ریلیف فنڈز میں تقریبا 32 ملین ڈالر کی خرد برد اور غیر قانونی فراڈ کے مقدمات میں طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھی۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے ملزمہ کی واپسی کی تصدیق کر دی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق، ملزمہ نے وبائی مرض کے دوران حکومت کی جانب سے کاروبار اور مستحق شہریوں کی مدد کے لیے جاری کیے جانے والے امدادی فنڈز کو غلط طریقوں سے حاصل کیا۔ اس نے جعلی دستاویزات اور فرضی کمپنیوں کے ذریعے بھاری رقم اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کی تھی، جو کہ قانون کی سخت خلاف ورزی ہے۔ فراڈ کا پردہ فاش ہونے کے بعد جب تحقیقات کا آغاز ہوا تو ملزمہ تحقیقاتی اداروں کی گرفت سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہو گئی۔ وہ طویل عرصے تک قانون کی گرفت سے باہر رہنے کے لیے مختلف مقامات پر روپوش رہی، تاہم امریکی حکام نے بین الاقوامی اداروں اور غیر ملکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر اس کا سراغ لگا لیا۔ جمیکا میں حکام نے کارروائی کرتے ہوئے مفرور ملزمہ کو حراست میں لیا اور تمام قانونی و سفارتی تقاضے پورے کرنے کے بعد اسے امریکہ کے حوالے کر دیا۔ اب امریکی عدالت میں اس کے خلاف باضابطہ مقدمے کی سماعت کا آغاز کیا جائے گا، جہاں اسے کووڈ ریلیف فنڈز میں بڑے پیمانے پر فراڈ کرنے اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے الزامات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے مالیاتی فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی سے آئندہ اس قسم کے جرائم کی حوصلہ شکنی ہوگی۔