Politics
امریکی سیاست میں اسپوئلز سسٹم اور ڈونلڈ ٹرمپ کا طرزِ حکمرانی
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حکومتی عہدوں پر اپنے حامیوں کی تقرری کو تاریخی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ عمل 1832 کے اس روایت سے جڑا ہے جہاں فاتح امیدوار اپنے حامیوں کو نوازتے ہیں۔
امریکی سیاست کے میدان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا طرزِ عمل اکثر متنازعہ رہا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وہ سیاسی روایات سے اتنے بھی نابلد نہیں جتنا کہ اکثر پیش کیا جاتا ہے۔ جب ہم امریکی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقتدار میں آنے والے رہنماؤں کی جانب سے اپنے وفاداروں اور حامیوں کو سرکاری عہدوں سے نوازنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس سیاسی عمل کو تاریخی طور پر 'اسپوئلز سسٹم' کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کی جڑیں 1832 میں نیویارک کے امریکی سینیٹر ولیم ایل میسی کے بیانات میں ملتی ہیں، جنہوں نے اس وقت فاتح امیدواروں کی جانب سے اپنے حامیوں کو نوازنے کے حق میں دلائل دیے تھے۔
ٹرمپ کی حالیہ انتخابی کامیابی اور اس کے بعد کی جانے والی تقرریوں کو اسی تاریخی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ روایتی سیاست دانوں کے مقابلے میں اقتدار کے فوائد سمیٹنے میں کہیں زیادہ عجلت پسند اور واضح ہیں۔ تاہم حامیوں کا موقف ہے کہ صدر کو اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کروانے کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے وژن سے اتفاق رکھتے ہوں۔ یہ بحث امریکی جمہوریت میں طویل عرصے سے جاری ہے کہ آیا سرکاری ملازمتیں میرٹ پر ہونی چاہئیں یا سیاسی وفاداری کے بنیاد پر فاتح کا حق ہیں۔
ماہرینِ سیاسیات کے مطابق، امریکی صدارت کے پاس بے پناہ اختیارات ہیں اور وفاقی اداروں میں تعیناتیوں کا اختیار صدر کو یہ صلاحیت دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق حکومتی مشینری کو ڈھال سکیں۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت اور اب دوبارہ منتخب ہونے کے بعد بھی اسی روایتی راستے کو اختیار کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ امریکی سیاسی نظام کی گہرائیوں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہے بلکہ امریکی صدارتی نظام کی ایک ایسی خصوصیت ہے جسے اکثر سیاسی رہنما اپنی طاقت مستحکم کرنے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ 'اسپوئلز سسٹم' امریکی سیاست کا ایک لازمی جزو رہا ہے جس نے وقت کے ساتھ ساتھ مختلف شکلیں اختیار کی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس کے 'فوائد' سے استفادہ کرنا امریکی سیاسی ثقافت کا ایک قدیم حصہ ہے۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹرمپ کی یہ حکمتِ عملی ان کے انتظامی اہداف کے حصول میں کتنی مددگار ثابت ہوتی ہے اور امریکی عوام اس طرزِ حکمرانی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔