LIVE
Loading Breaking News...

ملائیشیا میں گاڑیوں کے معائنے کے لیے اے آئی ٹیکنالوجی کا انقلاب

News Image
ملائیشیا کی معروف کمپنی پوسپاکوم نے کمرشل گاڑیوں کے نچلے حصے کے معائنے کے لیے جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت معائنے کا وقت دس منٹ سے کم ہو کر صرف ایک منٹ رہ گیا ہے۔
ملائیشیا کی معروف وہیکل انسپیکشن کمپنی 'پوسپاکوم' (Puspakom) نے آٹوموبائل انڈسٹری میں ایک بڑا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ملک میں پہلی بار مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس انڈر کیریج انسپیکشن سسٹم متعارف کروا دیا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر کمرشل گاڑیوں کے معائنے کے عمل کو تیز، درست اور محفوظ بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے آنے سے اب گاڑیوں کے نیچے کے حصوں کی جانچ پڑتال میں انسانی غلطی کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ نئے سسٹم کی سب سے نمایاں خصوصیت وقت کی بچت ہے۔ روایتی طریقوں کے تحت کمرشل گاڑیوں کے انڈر کیریج کا معائنہ کرنے میں تقریباً دس منٹ کا وقت درکار ہوتا تھا، تاہم اب مصنوعی ذہانت کے حامل کیمرے اور سینسرز اس کام کو صرف ایک منٹ میں مکمل کر سکتے ہیں۔ اس طرح معائنے کے کل وقت میں تقریباً 90 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے نہ صرف گاڑی مالکان کا قیمتی وقت بچتا ہے بلکہ ٹیسٹ سینٹرز پر گاڑیوں کی طویل قطاروں اور رش میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ کمپنی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اے آئی سسٹم گاڑی کے نچلے حصے، بشمول چیسس، سسپنشن اور بریک کے اجزاء کی گہرائی سے جانچ پڑتال کرتا ہے اور کسی بھی قسم کی خرابی یا خرابی کے امکانات کو فوری طور پر شناخت کر لیتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہائی ریزولیوشن کیمروں کی مدد سے ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے جسے اے آئی الگورتھمز فوری طور پر پروسیس کرکے نتائج فراہم کرتے ہیں۔ اس سے معائنے کی شفافیت میں بھی اضافہ ہوگا اور سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی حفاظت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ پوسپاکوم کا یہ اقدام ملائیشیا میں گاڑیوں کی جانچ کے نظام کو ڈیجیٹل اور جدید بنانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو پورے ملک میں وسیع پیمانے پر اپنایا گیا تو اس سے نہ صرف ٹریفک حادثات کی شرح میں کمی لانے میں مدد ملے گی بلکہ آٹوموبائل شعبے میں تکنیکی ترقی کے نئے دور کا آغاز بھی ہوگا۔ کمپنی آنے والے دنوں میں اپنے دیگر مراکز میں بھی اس جدید سہولت کی تنصیب کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ گاڑیوں کے معائنے کے عمل کو مکمل طور پر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔