LIVE
Loading Breaking News...

کاجو کے پھل سے منافع: گھانا کے کسانوں کے لیے نئی امید

News Image
گھانا میں کاجو کے کاشتکار اب کاجو کے مغز کے ساتھ ساتھ اس کے پھل سے بھی منافع کما رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر پروسیسنگ کی بدولت اس پھل سے جوس اور دیگر مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔
گھانا کے کاجو پیدا کرنے والے علاقوں میں اب ایک خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ روایتی طور پر، جب کسان کاجو کی فصل کی کٹائی کرتے تھے تو ان کی تمام تر توجہ کاجو کے مغز پر ہوتی تھی، جبکہ کاجو کا پھل درختوں کے نیچے ہی گر کر ضائع ہو جاتا تھا۔ تاہم، اب مقامی کسانوں نے اس پھل کی افادیت کو پہچان لیا ہے اور اسے ضائع کرنے کے بجائے نئی زندگی دے رہے ہیں۔ یہ قدم نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے بلکہ کاشتکاروں کے لیے اضافی آمدنی کا ایک نیا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ کاجو کا پھل، جسے ’کاجو ایپل‘ بھی کہا جاتا ہے، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ پہلے کسان اس کی افادیت سے ناواقف تھے لیکن اب جدید پروسیسنگ یونٹس کے قیام کے بعد اس پھل سے جوس، جیم اور دیگر مشروبات تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ مصنوعات مقامی مارکیٹ کے علاوہ بیرونِ ملک بھی بھیجی جا رہی ہیں، جس سے گھانا کی زرعی برآمدات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ یہ پیش رفت چھوٹے کسانوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے کیونکہ اب انہیں اپنی محنت کا دگنا صلہ مل رہا ہے۔ حکومت اور مختلف غیر سرکاری تنظیمیں بھی کاجو کے کسانوں کو اس نئی صنعت کی جانب راغب کرنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ مقامی سطح پر کارخانے قائم کیے گئے ہیں جہاں ان پھلوں کو صاف کر کے ان سے معیاری جوس نکالا جاتا ہے۔ اس عمل نے نہ صرف دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں بلکہ فصل کٹائی کے دوران ضائع ہونے والی پیداوار کو بھی ایک قیمتی اثاثے میں بدل دیا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے کاشتکار کافی پرامید ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ تک ان کی رسائی کو مزید بہتر بنایا جائے تو گھانا کاجو کے ساتھ ساتھ کاجو کے پھلوں سے بننے والی مصنوعات کے عالمی مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ زراعت میں جدید سوچ اور پائیدار حل اپنا کر معاشی بحرانوں سے نمٹا جا سکتا ہے اور دیہی معیشت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔