World
سمندری طوفان ڈولفن: چین میں بڑے پیمانے پر انخلا اور ہنگامی صورتحال
چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان ڈولفن کے باعث ریکارڈ بارشوں اور شدید ہنگامی صورتحال کے پیش نظر دس لاکھ سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام نے طوفان کے پیش نظر الرٹ جاری کر رکھا ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
چین کے مشرقی ساحلی علاقوں میں سمندری طوفان ڈولفن نے شدید تباہی مچا دی ہے، جس کے بعد حکام نے ہنگامی بنیادوں پر دس لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ چینی محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کے ساتھ ہونے والی ریکارڈ توڑ بارشوں نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، خاص طور پر شنگھائی شہر میں موسلا دھار بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔ انتظامیہ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
طوفان ڈولفن کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے جاپان کے جزیرے اوکیناوا سے گزرتے ہوئے بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا، جہاں 50 ہزار سے زائد عمارتوں کی بجلی منقطع ہو گئی اور ہوائی اڈے بند کرنے پڑے۔ اوکیناوا سے ٹکرانے کے بعد یہ طوفان اپنی پوری قوت کے ساتھ چین کے مشرقی ساحلوں کی جانب بڑھا، جس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں میں شدید ہواؤں اور طوفانی لہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے متاثرہ علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے بچاؤ ٹیموں کو ہر وقت چوکس رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
حکومتی ترجمان کے مطابق، انخلا کا عمل انتہائی چیلنجنگ تھا کیونکہ طوفان کی رفتار اور بارشوں کا دورانیہ غیر معمولی رہا ہے۔ اب تک کسی جانی نقصان کی بڑی اطلاع تو نہیں ملی، لیکن بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور مواصلاتی نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں انہیں خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ طوفان کا دباؤ آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے، تاہم ساحلی علاقوں میں تاحال سیلابی صورتحال برقرار ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق سمندری طوفان ڈولفن رواں سیزن کا ایک طاقتور ترین طوفان ثابت ہوا ہے، جس نے چین کے مشرقی صنعتی مراکز کو خاص طور پر متاثر کیا ہے۔ چینی صدر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین کی بحالی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اور نقصانات کا فوری تخمینہ لگایا جائے۔ آنے والے دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جس کے پیش نظر حکام نے اپنی نگرانی کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔