Technology
مصنوعی ذہانت اور ملازمین کی ورکنگ لائف کا تلخ حقیقت
ٹیک صنعت کے رہنما مصنوعی ذہانت کو کام کا بوجھ کم کرنے کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ملازمین ہفتہ وار 90 گھنٹے تک کام کرنے پر مجبور ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ ملازمین کی زندگی میں آسانی لائے گی اور انہیں فارغ وقت فراہم کرے گی۔ تاہم ٹیک صنعت کے بڑے ناموں کے دعوے اب سوالات کی زد میں ہیں۔ ایک جانب جہاں ٹیک کمپنیز کے سربراہان یہ کہہ رہے ہیں کہ اے آئی سے کام کے اوقات میں نمایاں کمی آئے گی، وہیں دوسری جانب ان کمپنیوں کے ملازمین کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اپنے ہی بیانیے کی عکاسی کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں اور ملازمین کی ورک لائف مزید مشکل ہو گئی ہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق بہت سے ٹیک ملازمین کو ہفتے میں 90 گھنٹے تک کام کرنا پڑ رہا ہے، جو کہ ایک صحت مند کام کے ماحول کے تصور کے بالکل برعکس ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب کمپنیوں نے اے آئی ٹولز کا استعمال تو بڑھا دیا ہے، لیکن کام کی رفتار اور معیار کے حصول کی دوڑ نے ملازمین پر ذہنی اور جسمانی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اے آئی انہیں فوری نتائج دینے کے لیے دباؤ ڈالتی ہے جس کی وجہ سے انہیں آرام کے بجائے مزید کام میں مصروف رہنا پڑتا ہے۔
ٹیک انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تضاد اس لیے بھی ہے کیونکہ کمپنیاں اے آئی کو افرادی قوت کو کم کرنے کے بجائے کام کی مقدار میں مزید اضافے کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ جب تک کارپوریٹ کلچر میں کام کے اوقات اور ملازمین کی فلاح و بہبود کو ترجیح نہیں دی جاتی، تب تک ٹیکنالوجی کے یہ وعدے محض دعووں تک ہی محدود رہیں گے۔ ملازمین کی بڑھتی ہوئی شکایتیں اس بات کی علامت ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد ابھی تک عام ورکرز تک پہنچنے میں بہت دور ہیں۔
مستقبل میں یہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی اور انسانی محنت کے درمیان توازن قائم رکھا جائے۔ اگر یہی روش جاری رہی تو ٹیک سیکٹر میں برن آؤٹ (ذہنی تھکن) کے کیسز میں مزید اضافہ ہوگا، جو طویل مدت میں کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ٹیک کمپنیاں اپنے ملازمین کے حقوق اور کام کے اوقات کار کے حوالے سے دوبارہ غور کریں اور اے آئی کو حقیقی معنوں میں انسانی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔