Sports
مانچسٹر یونائیٹڈ: مورینہو نے سر ایلکس فرگوسن کے جانشین بننے کا راز کھول دیا
مشہور فٹ بال کوچ جوزے مورینہو نے ایک دستاویزی فلم میں انکشاف کیا ہے کہ 2013 میں سر ایلکس فرگوسن کے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ مانچسٹر یونائیٹڈ کے مینیجر بننے کے لیے تیار تھے۔ اس پیشکش کے باوجود معاملات مختلف رخ پر مڑ گئے اور ڈیوڈ موئس کو اولڈ ٹریفورڈ کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔
فٹ بال کی دنیا کے معروف اور کامیاب ترین کوچ جوزے مورینہو نے ایک حالیہ دستاویزی فلم میں مانچسٹر یونائیٹڈ کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ مورینہو کے مطابق، سال 2013 میں جب سر ایلکس فرگوسن نے اپنے طویل اور شاندار کیریئر کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، تو اس وقت اولڈ ٹریفورڈ کے اہم عہدے کے لیے ان کا انتخاب تقریباً حتمی تھا۔ مورینہو نے بتایا کہ سر ایلکس فرگوسن کی جانب سے انہیں اس اہم ذمہ داری کو سنبھالنے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے قبول بھی کر لیا تھا۔ اگر یہ پیشکش حقیقت کا روپ دھار لیتی تو مانچسٹر یونائیٹڈ کی تاریخ کا رخ بالکل مختلف ہو سکتا تھا۔ تاہم، اس وقت کے حالات نے ایک نیا موڑ لیا اور بالآخر ڈیوڈ موئس کو سر ایلکس فرگوسن کا جانشین مقرر کیا گیا۔ اس فیصلے نے فٹ بال شائقین اور تجزیہ کاروں کو سخت حیران کر دیا تھا، کیونکہ ڈیوڈ موئس کے پاس اس سطح پر کام کرنے کا تجربہ مورینہو کے مقابلے میں کافی مختلف تھا۔ مورینہو کے اس بیان نے ایک بار پھر پرانی بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا وہ اس وقت مانچسٹر یونائیٹڈ کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہو سکتے تھے۔ یاد رہے کہ سر ایلکس فرگوسن کی رخصتی کے بعد مانچسٹر یونائیٹڈ کو کافی عرصے تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ٹیم اپنے پرانے جاہ و جلال کو بحال کرنے میں مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ مورینہو کے اس انکشاف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فٹ بال کے پردے کے پیچھے کس طرح کے بڑے فیصلے ہوتے ہیں جو کبھی کبھی سامنے نہیں آ پاتے۔ اگرچہ مورینہو نے بعد میں مانچسٹر یونائیٹڈ کی کوچنگ کی ذمہ داریاں سنبھالیں، لیکن 2013 میں یہ موقع ملنا ان کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا تھا۔