LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈا میں خوفناک جنگلات کی آگ، ہزاروں افراد بے گھر

News Image
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے علاقے اوکاناگن میں جنگلات میں لگی خوفناک آگ تیزی سے رہائشی علاقوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مقامی حکام نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر ہزاروں شہریوں کو اپنے گھر چھوڑنے کی ہدایت کر دی ہے۔
کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے علاقے اوکاناگن میں جنگلات میں لگی خوفناک آگ نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ تیز ہواؤں کے باعث آگ کے شعلے تیزی سے پھیل رہے ہیں جس کی زد میں آنے سے رہائشی علاقے شدید خطرے کی زد میں ہیں۔ حکام کی جانب سے فوری انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنی جانیں بچانے کے لیے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ صورتحال علاقے میں شدید اضطراب اور خوف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے دن رات مصروف عمل ہیں، لیکن گرم موسم اور خشک ہواؤں کے جھونکے ان کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ حکومتی ترجمان کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ اسے کنٹرول کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے اور تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ آگ کو رہائشی آبادیوں تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ فی الحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، تاہم املاک کو ہونے والا نقصان وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا کے جنگلات میں اس طرح کی آگ کا لگنا اب معمول بنتا جا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی خشک سالی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومتی احکامات کی پیروی کریں اور ایمرجنسی الرٹ کے لیے ریڈیو اور دیگر ذرائع ابلاغ پر نظر رکھیں۔ متاثرہ علاقوں کے راستوں کو ٹریفک کے لیے محدود کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی گاڑیوں کی نقل و حرکت میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ حالیہ برسوں میں کینیڈا کے مختلف حصوں میں جنگلات کی آگ کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اوکاناگن میں پیش آنے والا یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ حکام کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں موسم میں تبدیلی یا ہوا کی سمت میں بدلاؤ سے آگ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ فی الحال، ریسکیو ٹیمیں اور مقامی رضاکار متاثرین کی مدد کے لیے کوشاں ہیں اور انہیں عارضی کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔