LIVE
Loading Breaking News...

ٹائیگا کا نیا البم: آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے تنازع پر گلوکار کا ردعمل

News Image
مشہور امریکی ریپر ٹائیگا نے اپنے حالیہ البم '$tarface' میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے استعمال پر ہونے والی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا ہے کہ ٹیکنالوجی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کا ایک جدید ذریعہ ہے۔
امریکی موسیقی کی دنیا کے معروف ریپر ٹائیگا نے اپنے حال ہی میں ریلیز ہونے والے نئے البم '$tarface' میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کے استعمال پر کھل کر بات کی ہے۔ حالیہ کچھ عرصے سے میوزک انڈسٹری میں AI کے استعمال پر شدید بحث جاری ہے اور کئی فنکار اسے فن کی روح کے منافی قرار دیتے ہیں، تاہم ٹائیگا نے ان تمام خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس محض ایک ٹول ہے جو فنکار کو اپنی تخلیقی حدود کو وسیع کرنے اور موسیقی کو نئے انداز میں پیش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ٹائیگا نے اپنے دفاع میں کہا کہ موسیقی ہمیشہ سے ٹیکنالوجی کے ساتھ ارتقا پذیر رہی ہے، اور جس طرح ماضی میں اسٹوڈیو ایفیکٹس اور کمپیوٹر پروگرامز کو قبول کیا گیا، اسی طرح AI بھی جدید دور کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، '$tarface' کے پروڈکشن عمل کے دوران AI کا استعمال صرف تجرباتی نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد آواز کی کوالٹی اور ساؤنڈ ڈیزائن کو ایک نئی سطح پر لے جانا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ فنکار کا اپنا وژن سب سے اہم ہوتا ہے اور ٹیکنالوجی اسے صرف پالش کرنے کا کام کرتی ہے۔ البم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ٹائیگا نے مزید کہا کہ شائقین اکثر کسی نئی چیز کو دیکھ کر شکوک و شبہات کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہی چیزیں انڈسٹری کا معیار بن جاتی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کے البم میں جذباتی گہرائی اور اصلیت موجود ہے، جس میں ٹیکنالوجی کا کردار صرف معاونت تک محدود ہے۔ ٹائیگا کا یہ بیان ان فنکاروں کے لیے ایک اہم پیغام ہے جو موسیقی میں جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے سے گھبراتے ہیں۔ میوزک ناقدین کا ماننا ہے کہ ٹائیگا کا یہ قدم موسیقی کی صنعت میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، جہاں فنکاروں کے لیے تخلیقی صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ تاہم، ٹائیگا کے اس اقدام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مستقبل کی موسیقی میں AI کا کردار ناگزیر ہوتا جا رہا ہے اور اسے روکنے کے بجائے اس کا بہتر استعمال ہی کامیابی کی کنجی ثابت ہوگا۔