World
چین میں طوفان ڈولفن کا اثر: ٹرانسپورٹ اور نظام زندگی درہم برہم
سمندری طوفان ڈولفن کے کمزور پڑنے کے باوجود مشرقی چین میں بڑے پیمانے پر ٹرانسپورٹ کے نظام میں خلل پیدا ہوا ہے۔ طوفانی ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کے باعث پروازیں اور ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
مشرقی چین میں سمندری طوفان 'ڈولفن' نے نظام زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ اگرچہ طوفان کی مجموعی شدت میں اب کمی واقع ہو چکی ہے، لیکن اس کے اثرات کے تحت ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور تیز ہواؤں نے مقامی ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی رابطوں کو بری طرح درہم برہم کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق، طوفان کے گزرنے کے راستے میں آنے والے ساحلی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ برقرار ہے جس کے پیش نظر سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
طوفان کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ ہوا بازی اور ریل کا نظام ہے۔ مشرقی چین کے کئی بڑے ہوائی اڈوں پر سینکڑوں پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ حکام نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر پر روانہ ہونے سے قبل اپنی پروازوں کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کریں۔ اس کے علاوہ، تیز ہواؤں کی وجہ سے ٹرین سروسز کو بھی معطل یا محدود کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ طوفان کی شدت بتدریج کم ہو رہی ہے تاہم ساحلی علاقوں میں سمندر کی لہریں ابھی بھی طغیانی کا شکار ہیں، جس کے باعث ماہی گیروں کو سمندر میں نہ جانے کی تنبیہ کی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے ریلیف آپریشن شروع کر دیے گئے ہیں اور نشیبی علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ ہنگامی خدمات انجام دینے والے ادارے کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
چین کی حکومت نے متاثرہ علاقوں کے لیے امدادی پیکج اور فوری بحالی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ طوفان سے ہونے والے مالی نقصانات کا تخمینہ بعد میں لگایا جائے گا، تاہم فی الحال ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ اور نظام زندگی کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ شہری انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں تاکہ کسی بھی قسم کے حادثے سے بچا جا سکے۔