LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تشویش

News Image
آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ عالمی ماہرین کا خیال ہے کہ سمندری گزرگاہ کی بندش یا اس کے دوبارہ کھلنے میں تاخیر عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے متعلق پیدا ہونے والی شدید غیر یقینی صورتحال ہے۔ دنیا بھر کے توانائی کے ماہرین اور سرمایہ کار اس اہم سمندری گزرگاہ کی صورتحال کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو کہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اس کے آپریشنل ہونے کے حوالے سے خدشات براہ راست عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں مزید تاخیر ہوئی تو اس کے اثرات عالمی سطح پر مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔ چونکہ تیل کی ایک بڑی مقدار اسی گزرگاہ سے دنیا بھر کے ممالک کو پہنچائی جاتی ہے، اس لیے یہاں کی کشیدگی اور غیر یقینی کیفیت سپلائی چین کے نظام کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی سپلائی میں تعطل سے قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے پہلے سے کمزور عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، خام تیل کے نرخوں میں حالیہ اضافہ اسی خدشے کا نتیجہ ہے کہ خطے میں جاری سیاسی و سیکیورٹی صورتحال جلد معمول پر نہیں آئے گی۔ تجارتی مراکز میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑی تو اوپیک ممالک اور دیگر بڑی تیل پیدا کرنے والی ریاستیں کس طرح ردعمل دیں گی۔ فی الحال منڈی میں خریداری کا رجحان بڑھ رہا ہے کیونکہ تاجر سپلائی کے ممکنہ شارٹ فال سے بچنے کے لیے پیشگی تیاری کر رہے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز میں معمول کے مطابق تجارتی جہاز رانی مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی، تب تک تیل کی عالمی قیمتیں غیر مستحکم رہیں گی۔ یہ صورتحال نہ صرف تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی کے متبادل ذرائع اور سیاسی مذاکرات کی اہمیت کو بھی اجاگر کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ متعلقہ عالمی ادارے اور ممالک اس بحرانی صورتحال کو کیسے حل کرتے ہیں تاکہ عالمی معیشت کو مزید بڑے جھٹکے سے بچایا جا سکے۔