LIVE
Loading Breaking News...

چینی اے آئی ماڈلز پر پابندی: امریکی اسٹارٹ اپس کا ردعمل اور واشنگٹن کی پالیسی

News Image
امریکہ میں دو سو سے زائد اسٹارٹ اپس نے چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر ممکنہ پابندیوں کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ واشنگٹن میں مون شاٹ اے آئی کے خلاف سخت اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے جس پر کاروباری حلقے فکر مند ہیں۔
امریکہ میں دو سو سے زائد نئے اور ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس نے چینی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز پر ممکنہ پابندیوں یا سخت ضابطوں کے خلاف باضابطہ طور پر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت شدت اختیار کر گئی جب واشنگٹن کی طرف سے چینی کمپنی مون شاٹ اے آئی کے خلاف ممکنہ پابندیوں یا اسے 'انٹیٹی لسٹ' میں شامل کرنے کے معاملات پر غور شروع کیا گیا۔ امریکی حکام فی الحال مکمل پابندی کے بجائے محدود اور ہدف بنائے گئے اقدامات پر غور کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ٹیک انڈسٹری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب مون شاٹ کی جانب سے جدید ترین اے آئی ماڈل 'کیمی' متعارف کروایا گیا، جس نے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑی ہلچل مچا دی ہے۔ بہت سے امریکی کاروباری اداروں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی تعاون اور آزادانہ رسائی کو محدود کرنے سے خود امریکی معیشت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان اسٹارٹ اپس کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی سخت گیر پالیسیوں سے ان کے پاس دستیاب جدید ٹیکنالوجی تک رسائی متاثر ہوگی، جس سے وہ عالمی منڈی میں دیگر حریفوں کے مقابلے میں پیچھے رہ سکتے ہیں۔ واشنگٹن کے فیصلہ ساز اداروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں نرم رویہ اختیار کریں اور قومی سلامتی کے نام پر ٹیکنالوجی کی جدت کو نہ روکیں۔ دوسری جانب، امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا کرنا اور ملکی مفادات کا تحفظ کرنا ان کی اولین ترجیح ہے، اور چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں ممکنہ طور پر سکیورٹی خدشات کا باعث بن سکتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ دونوں اطراف کے فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور حکومت پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔