Technology
امریکہ میں اے آئی سے لیس کچرا ٹرک اور شہریوں کی نگرانی
امریکہ کے شہر کیپ کورل میں صفائی کے عملے کے ٹرکوں کو مصنوعی ذہانت کے حامل کیمروں سے لیس کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹرک کوڑا اٹھانے کے ساتھ ساتھ شہر میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کی بھی نشاندہی کریں گے۔
امریکہ میں اب کوڑا کرکٹ اٹھانے والے ٹرک صرف صفائی کے فرائض تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی مدد سے شہریوں کی نگرانی بھی کریں گے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، امریکہ کے مختلف شہروں میں بلدیاتی نظام کو مزید جدید بنانے کے لیے کوڑے کے ٹرکوں پر جدید کیمرے نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے ریاست فلوریڈا کے شہر کیپ کورل کے حکام نے حال ہی میں ایک اہم تجویز پر غور کیا ہے جس کے تحت صفائی کے ان ٹرکوں کو مصنوعی ذہانت سے لیس کیمرے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ ٹرک معمول کے مطابق گلی محلوں سے کوڑا اکٹھا کرتے وقت اپنے کیمروں کے ذریعے اردگرد کے ماحول کا جائزہ بھی لیں گے۔
اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد شہر میں ضابطہ اخلاق اور بلدیاتی قوانین کی خلاف ورزیوں کا پتہ لگانا ہے۔ اے آئی سسٹمز اس قابل ہوں گے کہ وہ مکانات یا املاک کے باہر موجود خرابیوں، غیر قانونی تعمیرات، صفائی کی ناقص صورتحال یا دیگر ضابطہ شکنیوں کی خودکار طریقے سے تصاویر کھینچ سکیں۔ اس کے بعد یہ تصاویر متعلقہ حکام کو بھیجی جائیں گی تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس نظام سے شہر کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانے میں بڑی مدد ملے گی۔
تاہم، اس ٹیکنالوجی کے نفاذ کے ساتھ ہی شہریوں کی پرائیویسی اور نجی زندگی کے حوالے سے تحفظات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خودکار جاسوسی سسٹمز عام شہریوں کی نقل و حرکت اور ان کی املاک پر گہری نظر رکھیں گے جو کہ پرائیویسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ سول سلتھ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس قسم کی نگرانی معاشرے میں عدم اعتماد کو بڑھا سکتی ہے۔
دوسری جانب، بلدیاتی اداروں کا اصرار ہے کہ یہ اقدام صرف شہر کو صاف ستھرا اور منظم رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے نہ کہ شہریوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کے لیے۔ جیسے جیسے امریکہ کے مختلف شہروں میں اس قسم کے سمارٹ سسٹمز کا تجربہ کیا جا رہا ہے، یہ بحث بھی زور پکڑتی جا رہی ہے کہ سکیورٹی اور پرائیویسی کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا شہری اس نئی اے آئی نگرانی کو قبول کرتے ہیں یا اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کرتے ہیں۔