LIVE
Loading Breaking News...

چارلس گڈ ایئر اور ولکنائزیشن کی تاریخ - ربڑ کی ایجاد

News Image
چارلس گڈ ایئر نے سن 1839 میں ایک حادثاتی تجربے کے دوران ربڑ اور سلفر کے آمیزے کو گرم چولہے پر گرا دیا تھا جس سے ولکنائزیشن کا عمل دریافت ہوا۔ اس اہم ترین ایجاد کی بدولت آج ٹرکوں کے مضبوط ٹائروں سے لے کر بچوں کی پنسل کے ربڑ تک ہر چیز تیار کی جاتی ہے۔
تاریخ میں کئی ایسی بڑی سائنسی دریافتیں ہوئی ہیں جو کسی باقاعدہ تجربہ گاہ یا منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں بلکہ محض اتفاقی حادثات تھے۔ ان ہی حیرت انگیز حادثاتی ایجادات میں سے ایک کارنامہ چارلس گڈ ایئر کا ہے جنہوں نے سن 1839 میں ربڑ کی صنعت کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔ چارلس گڈ ایئر ایک ہارڈ ویئر کے تاجر تھے جو طویل عرصے سے ربڑ کو زیادہ پائیدار اور کارآمد بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے کیونکہ ابتدائی شکل میں قدرتی ربڑ گرمی میں پگھل جاتا اور سردی میں سخت ہو جاتا تھا، جس کی وجہ سے اسے روزمرہ کی مصنوعات میں استعمال کرنا انتہائی مشکل تھا۔ ایک روز کام کے دوران چارلس گڈ ایئر سے لاعلمی میں ربڑ اور سلفر کا آمیزہ غلطی سے ایک گرم چولہے پر گر گیا۔ اس زمانے کے حساب سے یہ ایک ضائع ہونے والا حادثہ تھا لیکن جب اس نے اس جلے ہوئے اور گِرے ہوئے مادے کا بغور جائزہ لیا تو اس پر انکشاف ہوا کہ یہ آمیزہ پگھلنے کے بجائے ایک لچکدار اور مضبوط شکل اختیار کر چکا تھا۔ اس حادثاتی عمل کو بعد میں ولکنائزیشن (Vulcanisation) کا نام دیا گیا، جو کہ دراصل پولیمر چینز کے درمیان سلفر کے ذریعے ہونے والا کراس لنکنگ کا عمل ہے، جس نے ربڑ کو اس کی موجودہ مفید اور پائیدار حالت عطا کی۔ اس اتفاقیہ دریافت کے بعد ربڑ کی خصوصیات میں بنیادی تبدیلیاں آئیں اور یہ انتہائی موسموں میں بھی اپنی اصلی حالت برقرار رکھنے کے قابل ہو گیا۔ اس انقلابی تکنیک کی بدولت آج ربڑ کا استعمال دنیا بھر میں انتہائی وسیع پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔ ٹرکوں اور گاڑیوں کے مضبوط اور پائیدار ٹائروں سے لے کر بچوں کی پنسل کے اوپر لگے ہوئے گلابی رنگ کے چھوٹے سے ربڑ تک، سب اسی ولکنائزیشن کے مرہون منت ہیں۔ آج جب ہم اپنے اردگرد ربڑ سے بنی ہوئی ان گنت اشیاء کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ چارلس گڈ ایئر کی چولہے پر ہونے والی وہ معمولی سی غلطی کتنی بڑی تاریخی اہمیت کی حامل تھی۔ اس ایک حادثے نے نہ صرف ایک شخص کی زندگی بدلی بلکہ پوری دنیا کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری اور ٹیکنالوجی کے سفر کو ایک بالکل نئی سمت عطا کی۔