World
شہری جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی: پاکٹ فاریسٹس کی اہمیت
شہروں میں چھوٹے پیمانے پر جنگلات کی شمولیت سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہ پاکٹ فاریسٹس شہری زندگی میں تازہ ہوا اور سکون فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آج کے ترقی یافتہ اور صنعتی دور میں جہاں شہروں میں آبادی کا دباؤ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے، وہیں سبزہ زاروں کی کمی ماحولیاتی مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ کنکریٹ کے اس دور میں شہروں کو سانس لینے کے قابل بنانے کے لیے 'پاکٹ فاریسٹس' یعنی چھوٹے جنگلات کا تصور تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ محدود جگہوں پر گھنے درخت اگانے سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ فضائی آلودگی کو کم کرنے کا ایک انتہائی مؤثر اور سستا ذریعہ بھی ثابت ہو رہے ہیں۔ بالیمن جیسے علاقوں میں اس قسم کے اقدامات سے شہریوں کو ایک پرسکون اور صاف ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، جہاں وہ فطرت کے قریب وقت گزار سکتے ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات کے مطابق، یہ چھوٹے جنگلات روایتی پارکس کے مقابلے میں بہت کم جگہ گھیرتے ہیں لیکن ان کے ماحولیاتی فوائد کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ جاپانی میاواکی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ان جنگلات میں ایسے مقامی پودے لگائے جاتے ہیں جو تیزی سے بڑھتے ہیں اور ایک دوسرے کی افزائش میں مدد کرتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے لگائے گئے پودے محض چند سالوں میں ایک گھنے جنگل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ جنگلات شہر کے درجہ حرارت کو کم کرنے، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے اور بارش کے پانی کو بہتر طریقے سے جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے شہری سیلاب کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔
شہری حکومتوں اور مقامی کمیونٹیز کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہر خالی جگہ یا سڑک کے کنارے اگر پاکٹ فاریسٹس قائم کر دیے جائیں تو شہروں کی آب و ہوا میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف حیاتیاتی تنوع (Biodiversity) کو فروغ ملتا ہے بلکہ پرندوں اور چھوٹے جانوروں کے لیے بھی قدرتی آراستگی پیدا ہوتی ہے۔ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے محلوں میں ان چھوٹے جنگلات کی دیکھ بھال میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک صاف ستھرا اور سرسبز ماحول مل سکے۔