LIVE
Loading Breaking News...

ڈیوڈ اٹنبورو کی فلم لائٹ آن ارتھ اور حیاتیاتی روشنی کے اسرار

News Image
مشہور براڈکاسٹر ڈیوڈ اٹنبورو کی دستاویزی فلم میں حیاتیاتی لومینیسینس اور حیرت انگیز سمندری مخلوقات کے رازوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے۔ اس فلم میں شاندار عکاسی کے ذریعے قدرت کے انوکھے مظاہر کو ناظرین کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔
دنیا کے معروف ترین براڈکاسٹر اور فطرت نگار ڈیوڈ اٹنبورو کی ایک اور شاندار کاوش سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے قدرت کے ایک انتہائی حسین اور پراسرار مظہر یعنی حیاتیاتی لومینیسینس (bioluminescence) یعنی جانداروں کی اپنی روشنی پیدا کرنے کی صلاحیت کو موضوع بنایا ہے۔ 'لائٹ آن ارتھ' نامی یہ دستاویزی فلم جدید ترین فلمی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ کیمرہ آلات کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی ہے، جس نے دنیا کو ایسے ان دیکھے جانداروں اور ان کے رویوں سے متعارف کرایا ہے جو اس سے قبل سائنسدانوں کی نظروں سے بھی اوجھل تھے۔ فلم کی پروڈکشن میں انتہائی جدید ایچ ڈی اور ویب فارمیٹ کی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے تاکہ تاریک سمندروں کی گہرائیوں اور جنگلات کے اندرونی حصوں میں ہونے والے ان روشن مظاہر کو ان کے حقیقی اور دلکش رنگوں میں دکھایا جا سکے۔ ڈیوڈ اٹنبورو کی جادوئی آواز اور ان کی بہترین روداد نگاری اس دستاویزی فلم کے اثر کو دو آتشہ کر دیتی ہے۔ ناظرین کو اس فلم کے ذریعے ایسے جانداروں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے جو اندھیرے میں خود روشنی پیدا کرتے ہیں، جو کہ شکاریوں سے بچنے یا اپنے ساتھیوں کو متوجہ کرنے کا ایک قدرتی طریقہ ہے۔ اس منصوبے کو سائنسی حلقوں میں بھی بے حد سراہا گیا ہے کیونکہ اس میں نہ صرف تفریح کا سامان ہے بلکہ حیاتیات اور سمندری علوم کے حوالے سے قیمتی معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی دستاویزی فلمیں عامتہ الناس میں ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی عجائبات کے بارے میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ڈیوڈ اٹنبورو نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ فطرت کے اسرار و رموز کو عام فہم اور دلکش انداز میں پیش کرنے میں لاجواب ہیں۔ فلم کا تکنیکی معیار بالخصوص اس کی آواز اور بصری اثرات اعلیٰ پائے کے ہیں، جس کی وجہ سے یہ فلم دنیا بھر کے دستاویزی فلموں کے شائقین میں یکساں طور پر مقبول ہو رہی ہے۔ ناظرین کے لیے یہ نہ صرف ایک بصری تسکین کا سامان ہے بلکہ کرہ ارض پر موجود زندگی کے تنوع اور اس کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ فلم آنے والے وقتوں میں سائنسی فلم سازی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔