LIVE
Loading Breaking News...

پشاور ہائیکورٹ کا افغان صحافیوں کی ملک بدری کے خلاف بڑا فیصلہ

News Image
پشاور ہائیکورٹ نے افغان صحافیوں کو ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے اس حوالے سے متعلقہ حکام کو احکام جاری کرتے ہوئے مزید کارروائی موخر کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پشاور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں افغان صحافیوں کی ملک بدری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس عدالتی حکم کے بعد پاکستان میں موجود ان افغان صحافیوں کو وقتی طور پر بڑا ریلیف مل گیا ہے جو مختلف سکیورٹی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر اپنے وطن واپس جانے سے قاصر ہیں اور یہاں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ پشاور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافی برادری کی طرف سے بے حد سراہا گیا ہے کیونکہ یہ صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی وجہ سے شدید خطرات کی زد میں ہیں۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ اگلی سماعت تک کسی بھی افغان صحافی کے خلاف جبری ملک بدری کی کارروائی عمل میں نہ لائی جائے۔ ماہرین قانون کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عدلیہ انسانی حقوق بالخصوص میڈیا سے وابستہ افراد کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف متاثرہ صحافیوں میں پائی جانے والی بے چینی میں کمی واقع ہوئی ہے بلکہ انہیں اپنے مستقبل کے حوالے سے کچھ امید بھی بندھی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ آنے والی سماعتوں میں اس نوعیت کے دیگر کیسز میں بھی مثبت پیش رفت سامنے آئے گی اور افغان پناہ گزین صحافیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔