LIVE
Loading Breaking News...

حصص بازار کی سست روی اور راجیو ٹھاکر کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی

News Image
پی پی ایف اے ایس کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر راجیو ٹھاکر کا کہنا ہے کہ بازار حصص میں طویل عرصے سے جاری سست روی معمول کا حصہ ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ حالیہ گراوٹ کے بعد مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
پی پی ایف اے ایس (PPFAS) کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر راجیو ٹھاکر نے سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ حصص بازار میں گزشتہ دو سال سے جاری سست روی اور ایک ہی دائرے میں رہنے کی صورتحال کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں کے نام اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ بازار وقتاً فوقتاً ایسے ادوار سے گزرتے ہیں جہاں تیزی کے بعد مارکیٹ کچھ عرصے کے لیے ساکت ہوجاتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ منافع کے مواقع ختم ہو چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کے مخصوص حصوں میں ہونے والی اصلاحات اور گراوٹ کے بعد اب نئے اور بہتر مواقع سامنے آ رہے ہیں جن سے ہوشیار سرمایہ کار بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ راجیو ٹھاکر نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI)، انفارمیشن ٹیکنالوجی سروسز، نجی شعبے کے بینکوں اور سمال اینڈ مڈ کیپ کمپنیوں سے متعلق اپنے ادارے کے مؤقف پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور اے آئی کا مستقبل روشن ہے، تاہم سرمایہ کاری کرتے وقت محتاط رویہ اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاروں کو جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے طویل مدتی اہداف کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔ بازار میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاری کا ایک لازمی حصہ ہے اور جو لوگ صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ طویل عرصے میں بہتر منافع حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مالیاتی ماہرین کا بھی یہی کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں سرمایہ کاری کے دوران تنوع (Diversification) کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ کسی بھی ناگوار صورتحال سے بچا جا سکے اور خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔