LIVE
Loading Breaking News...

ریٹائرمنٹ کے مالی مسائل اور جمع پੂੰجی کا خاتمہ

News Image
ایک 65 سالہ ریٹائرڈ شخص کے اس سوال نے سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا ریٹائرمنٹ کے دوران کسی کے پاس پیسے ختم بھی ہوتے ہیں۔ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ مہنگائی اور کم بچت کی وجہ سے بہت سے لوگ مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔
ریٹائرمنٹ کو عام طور پر کئی دہائیوں کی محنت اور احتیاط سے کی گئی بچت کا انعام سمجھا جاتا ہے۔ لیکن موجودہ دور میں بہت سے بزرگ شہریوں کے لیے یہ خواب ایک کٹھن حقیقت میں بدلتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں 65 سالہ ایک ریٹائرڈ شخص نے جب یہ سوال اٹھایا کہ کیا واقعی ریٹائرمنٹ کے دوران کسی کے پاس رقم ختم ہو جاتی ہے، تو اس پر گہری بحث چھڑ گئی۔ اعداد و شمار اور ماہرین کی رپورٹس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ ایسے افراد کی کثیر تعداد موجود ہے جو اپنی زندگی کے آخری پڑاؤ میں شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روزمرہ کے اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہے۔ بہت سے لوگ جوانی میں جو پنشن یا بچت کے منصوبے بناتے ہیں، وہ بڑھتی ہوئی عمر کے طبی اخراجات اور زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ طبی سہولیات کی بلند قیمتیں ریٹائرڈ افراد کی جمع پੂੰجی کو تیزی سے نگل لیتی ہیں، جس کے بعد ان کے پاس گزر بسر کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ نہیں بچتا۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بحران سے بچنے کے لیے کم عمر سے ہی بہتر مالیاتی منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے۔ محض روایتی طریقوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایسے سرمایہ کاری کے ذرائع اپنانا ہوں گے جو طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم آمدنی فراہم کر سکیں۔ حکومتوں اور مالیاتی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ بزرگ شہریوں کے لیے ایسے امدادی پروگرام اور پنشن سکیمیں متعارف کروائیں جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کر سکیں۔ اگر بروقت اس مسئلے پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے وقتوں میں ریٹائر ہونے والے افراد کی بڑی تعداد غربت کی لکیر کے نیچے جانے کا خطرہ مول لے گی۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ معاشرے کے ہر طبقے میں مالی خوانداری کو فروغ دیا جائے تاکہ ہر شخص اپنے سنہری دور کو بغیر کسی مالی خوف کے گزار سکے۔