LIVE
Loading Breaking News...

اٹلی کا دریائے پو خشک، کسانوں کے لیے فصلیں بدلنا مجبوری بن گیا

News Image
اٹلی کے سب سے بڑے دریائے پو میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے کسان روایتی فصلوں کی بجائے نئی اور کم پانی والی فصلیں منتخب کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی کی بروقت فراہمی نہ ہونے سے زرعی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اٹلی کا سب سے بڑا اور طویل ترین دریائے پو اس وقت شدید ترین خشک سالی اور پانی کی تاریخی کمی کا شکار ہے، جس نے ملک کے زرعی شعبے کو گہرے بحران میں دھکیل دیا ہے۔ صورتحال اتنی سنگین ہو چکی ہے کہ دریائے پو کے اطراف میں کھیتی باڑی کرنے والے کسان اب اپنی روایتی فصلوں کو چھوڑ کر متبادل اور کم پانی چاہنے والی فصلیں اگانے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ فیرا۔را کے علاقے میں کینالز اور پمپنگ سسٹمز چلانے والے اداروں کے مطابق، پانی اب غلط وقت پر اور غیر متوقع طریقوں سے پہنچ رہا ہے، جس کی وجہ سے کاشتکاری کا پورا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ ماہرین زراعت اور کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بارشوں کے معمولات میں تبدیلی اور برفانی تودوں کے قبل از وقت پگھلنے کی وجہ سے گرمیوں کے اہم ترین مہینوں میں ندی نالوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس موسمی عدم توازن کے باعث کسانوں کے لیے چاول، مکئی اور دیگر ایسی فصلیں اگانا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے جن کو زیادہ مقدار میں آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی کے اس مسلسل بحران نے نہ صرف مقامی کسانوں کی آمدنی کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ یہ اٹلی کی مجموعی غذائی سیکیورٹی اور زرعی برآمدات کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ حکومتی اداروں اور زرعی ماہرین کی جانب سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی اور ہنگامی نوعیت کے اقدامات پرغور کیا جا رہا ہے۔ اس میں جدید ترین آبپاشی کے نظام کو متعارف کرانا، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے نئے تالاب بنانا اور کسانوں کو ایسی بیجوں کی اقسام فراہم کرنا شامل ہے جو خشک سالی کو بہتر طریقے سے برداشت کر سکیں۔ اس کے باوجود، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں اٹلی کے کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نبردآزما ہونے کے لیے اپنی صدیوں پرانی زرعی روایات میں بنیادی تبدیلیاں کرنا ہوں گی تاکہ وہ اس قدرتی بحران میں زندہ رہ سکیں۔